صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ التوبہ کی آیت (7) کی تفسیر
﴿ كَيفَ يَكونُ لِلمُشرِكينَ عَهدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَسولِهِ إِلَّا الَّذينَ عٰهَدتُم عِندَ المَسجِدِ الحَرامِ ۖ فَمَا استَقٰموا لَكُم فَاستَقيموا لَهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ ﴾
مشرکوں کے لئے عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے ره سکتا ہے سوائے ان کے جن سے تم نے عہد وپیمان مسجد حرام کے پاس کیا ہے(1) ، جب تک وه لوگ تم سے معاہده نبھائیں تم بھی ان سے وفاداری کرو، اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔(2)
سورہ التوبہ کی آیت (8) کی تفسیر
﴿ كَيفَ وَإِن يَظهَروا عَلَيكُم لا يَرقُبوا فيكُم إِلًّا وَلا ذِمَّةً ۚ يُرضونَكُم بِأَفوٰهِهِم وَتَأبىٰ قُلوبُهُم وَأَكثَرُهُم فٰسِقونَ ﴾
ان کے وعدوں کا کیا اعتبار ان کا اگر تم پر غلبہ ہو جائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہدوپیمان کا(1) ، اپنی زبانوں سے تو تمہیں پرچا رہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مانتے ان میں سے اکثر تو فاسق ہیں۔
سورہ التوبہ کی آیت (9) کی تفسیر
﴿ اشتَرَوا بِـٔايٰتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَليلًا فَصَدّوا عَن سَبيلِهِ ۚ إِنَّهُم ساءَ ما كانوا يَعمَلونَ ﴾
انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راه سے روکا۔ بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔
سورہ التوبہ کی آیت (10) کی تفسیر
﴿ لا يَرقُبونَ فى مُؤمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُعتَدونَ ﴾
یہ تو کسی مسلمان کے حق میں کسی رشتہداری کا یا عہد کا مطلق لحاظ نہیں کرتے، یہ ہیں ہی حد سے گزرنے والے۔(1)
سورہ التوبہ کی آیت (11) کی تفسیر
﴿ فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ فَإِخوٰنُكُم فِى الدّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ ﴾
اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں(1) ۔ ہم تو جاننے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں۔
سورہ التوبہ کی آیت (12) کی تفسیر
﴿ وَإِن نَكَثوا أَيمٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ ۙ إِنَّهُم لا أَيمٰنَ لَهُم لَعَلَّهُم يَنتَهونَ ﴾
اگر یہ لوگ عہدوپیمان کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم بھی ان سرداران کفر سے بھڑ جاؤ۔ ان کی قسمیں(1) کوئی چیز نہیں، ممکن ہے کہ اس طرح وه بھی باز آجائیں۔
سورہ التوبہ کی آیت (13) کی تفسیر
﴿ أَلا تُقٰتِلونَ قَومًا نَكَثوا أَيمٰنَهُم وَهَمّوا بِإِخراجِ الرَّسولِ وَهُم بَدَءوكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخشَونَهُم ۚ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴾
تم ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے(1) جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کی فکر میں ہیں(2) اور خود ہی اول بار انہوں نے تم سے چھیڑ کی ہے(3)، کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیاده مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔