صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (211) از سورہ یونس

آیات 21 سے 25 تک

90 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ یونس کی آیت (21) کی تفسیر

﴿ وَإِذا أَذَقنَا النّاسَ رَحمَةً مِن بَعدِ ضَرّاءَ مَسَّتهُم إِذا لَهُم مَكرٌ فى ءاياتِنا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسرَعُ مَكرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنا يَكتُبونَ ما تَمكُرونَ ﴾

اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کامزه چکھا دیتے ہیں(1) تو وه فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں(2)، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیاده تیز ہے(3)، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.

سورہ یونس کی آیت (22) کی تفسیر

﴿ هُوَ الَّذى يُسَيِّرُكُم فِى البَرِّ وَالبَحرِ ۖ حَتّىٰ إِذا كُنتُم فِى الفُلكِ وَجَرَينَ بِهِم بِريحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحوا بِها جاءَتها ريحٌ عاصِفٌ وَجاءَهُمُ المَوجُ مِن كُلِّ مَكانٍ وَظَنّوا أَنَّهُم أُحيطَ بِهِم ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ لَئِن أَنجَيتَنا مِن هٰذِهِ لَنَكونَنَّ مِنَ الشّٰكِرينَ ﴾

وه اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے(1) ، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وه کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وه لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وه سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے(2)، (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں (3)کہ اگر تو ہم کو اس سے بچالے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے.

سورہ یونس کی آیت (23) کی تفسیر

﴿ فَلَمّا أَنجىٰهُم إِذا هُم يَبغونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ ۗ يٰأَيُّهَا النّاسُ إِنَّما بَغيُكُم عَلىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَتٰعَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ ثُمَّ إِلَينا مَرجِعُكُم فَنُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ ﴾

پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو بچالیتا ہے تو فوراً ہی وه زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں (1) اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لیے وبال ہونے والی ہے (2)دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلادیں گے.

سورہ یونس کی آیت (24) کی تفسیر

﴿ إِنَّما مَثَلُ الحَيوٰةِ الدُّنيا كَماءٍ أَنزَلنٰهُ مِنَ السَّماءِ فَاختَلَطَ بِهِ نَباتُ الأَرضِ مِمّا يَأكُلُ النّاسُ وَالأَنعٰمُ حَتّىٰ إِذا أَخَذَتِ الأَرضُ زُخرُفَها وَازَّيَّنَت وَظَنَّ أَهلُها أَنَّهُم قٰدِرونَ عَلَيها أَتىٰها أَمرُنا لَيلًا أَو نَهارًا فَجَعَلنٰها حَصيدًا كَأَن لَم تَغنَ بِالأَمسِ ۚ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ ﴾

پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں، خوب گنجان ہوکر نکلی۔ یہاں تک کہ جب وه زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آپڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا (1) کہ گویا کل وه موجود ہی نہ تھی۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں.

سورہ یونس کی آیت (25) کی تفسیر

﴿ وَاللَّهُ يَدعوا إِلىٰ دارِ السَّلٰمِ وَيَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ ﴾

اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راه راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے.

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 208 آیات : 1 سے 6 صفحہ : 209 آیات : 7 سے 14 صفحہ : 210 آیات : 15 سے 20 صفحہ : 211 آیات : 21 سے 25 صفحہ : 212 آیات : 26 سے 33 صفحہ : 213 آیات : 34 سے 42 صفحہ : 214 آیات : 43 سے 53 صفحہ : 215 آیات : 54 سے 61 صفحہ : 216 آیات : 62 سے 70 صفحہ : 217 آیات : 71 سے 78 صفحہ : 218 آیات : 79 سے 88 صفحہ : 219 آیات : 89 سے 97 صفحہ : 220 آیات : 98 سے 106 صفحہ : 221 آیات : 107 سے 109