صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الإسراء کی آیت (97) کی تفسیر
﴿ وَمَن يَهدِ اللَّهُ فَهُوَ المُهتَدِ ۖ وَمَن يُضلِل فَلَن تَجِدَ لَهُم أَولِياءَ مِن دونِهِ ۖ وَنَحشُرُهُم يَومَ القِيٰمَةِ عَلىٰ وُجوهِهِم عُميًا وَبُكمًا وَصُمًّا ۖ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ كُلَّما خَبَت زِدنٰهُم سَعيرًا ﴾
اللہ جس کی رہنمائی کرے تو وه ہدایت یافتہ ہے اور جسے وه راه سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ تو اس کا مددگار اس کے سوا کسی اور کو پائے(1) ، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منھ حشر کریں گے(2)، دراں حالیکہ وه اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے(3)، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جب کبھی وه بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے.
سورہ الإسراء کی آیت (98) کی تفسیر
﴿ ذٰلِكَ جَزاؤُهُم بِأَنَّهُم كَفَروا بِـٔايٰتِنا وَقالوا أَءِذا كُنّا عِظٰمًا وَرُفٰتًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ خَلقًا جَديدًا ﴾
یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑے کئے جائیں(1) گے؟
سورہ الإسراء کی آیت (99) کی تفسیر
﴿ ۞ أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ قادِرٌ عَلىٰ أَن يَخلُقَ مِثلَهُم وَجَعَلَ لَهُم أَجَلًا لا رَيبَ فيهِ فَأَبَى الظّٰلِمونَ إِلّا كُفورًا ﴾
کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وه ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے(1) ، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے(2)، لیکن ﻇالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں.
سورہ الإسراء کی آیت (100) کی تفسیر
﴿ قُل لَو أَنتُم تَملِكونَ خَزائِنَ رَحمَةِ رَبّى إِذًا لَأَمسَكتُم خَشيَةَ الإِنفاقِ ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ قَتورًا ﴾
کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے(1) کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل.
سورہ الإسراء کی آیت (101) کی تفسیر
﴿ وَلَقَد ءاتَينا موسىٰ تِسعَ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ ۖ فَسـَٔل بَنى إِسرٰءيلَ إِذ جاءَهُم فَقالَ لَهُ فِرعَونُ إِنّى لَأَظُنُّكَ يٰموسىٰ مَسحورًا ﴾
ہم نے موسیٰ کو نو معجزے(1) بالکل صاف صاف عطا فرمائے، تو خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لے کہ جب وه ان کے پاس پہنچے تو فرعون بوﻻ کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو تجھ پر جادو کردیا گیا ہے.
سورہ الإسراء کی آیت (102) کی تفسیر
﴿ قالَ لَقَد عَلِمتَ ما أَنزَلَ هٰؤُلاءِ إِلّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ بَصائِرَ وَإِنّى لَأَظُنُّكَ يٰفِرعَونُ مَثبورًا ﴾
موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے.
سورہ الإسراء کی آیت (103) کی تفسیر
﴿ فَأَرادَ أَن يَستَفِزَّهُم مِنَ الأَرضِ فَأَغرَقنٰهُ وَمَن مَعَهُ جَميعًا ﴾
آخر فرعون نے پختہ اراده کر لیا کہ انہیں زمین سے ہی اکھیڑ دے تو ہم نے خود اسے اور اس کے تمام ساتھیوں کو غرق کر دیا.
سورہ الإسراء کی آیت (104) کی تفسیر
﴿ وَقُلنا مِن بَعدِهِ لِبَنى إِسرٰءيلَ اسكُنُوا الأَرضَ فَإِذا جاءَ وَعدُ الءاخِرَةِ جِئنا بِكُم لَفيفًا ﴾
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین(1) پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔