صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ العنکبوت کی آیت (53) کی تفسیر
﴿ وَيَستَعجِلونَكَ بِالعَذابِ ۚ وَلَولا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجاءَهُمُ العَذابُ وَلَيَأتِيَنَّهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ ﴾
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں(1) ۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا(2)، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا.(3)
سورہ العنکبوت کی آیت (54) کی تفسیر
﴿ يَستَعجِلونَكَ بِالعَذابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحيطَةٌ بِالكٰفِرينَ ﴾
یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے.(1)
سورہ العنکبوت کی آیت (55) کی تفسیر
﴿ يَومَ يَغشىٰهُمُ العَذابُ مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَرجُلِهِم وَيَقولُ ذوقوا ما كُنتُم تَعمَلونَ ﴾
اس دن ان کے اوپر تلے سے عذاب ڈھانﭗ رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ(1) فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزه چکھو.
سورہ العنکبوت کی آیت (56) کی تفسیر
﴿ يٰعِبادِىَ الَّذينَ ءامَنوا إِنَّ أَرضى وٰسِعَةٌ فَإِيّٰىَ فَاعبُدونِ ﴾
اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو.(1)
سورہ العنکبوت کی آیت (57) کی تفسیر
﴿ كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۖ ثُمَّ إِلَينا تُرجَعونَ ﴾
ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہےاور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے.(1)
سورہ العنکبوت کی آیت (58) کی تفسیر
﴿ وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِنَ الجَنَّةِ غُرَفًا تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ نِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ ﴾
اور جولوگ ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے انہیں ہم یقیناً جنت کے ان باﻻ خانوں میں جگہ دینگے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں(1) جہاں وه ہمیشہ رہیں گے(2)، کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے.
سورہ العنکبوت کی آیت (59) کی تفسیر
﴿ الَّذينَ صَبَروا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴾
وه جنہوں نے صبر کیا(1) ، اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں.(2)
سورہ العنکبوت کی آیت (60) کی تفسیر
﴿ وَكَأَيِّن مِن دابَّةٍ لا تَحمِلُ رِزقَهَا اللَّهُ يَرزُقُها وَإِيّاكُم ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ ﴾
اور بہت سے(1) جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے(2)، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے(3)، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے.(4)
سورہ العنکبوت کی آیت (61) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنّىٰ يُؤفَكونَ ﴾
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ(1) ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں.(2)
سورہ العنکبوت کی آیت (62) کی تفسیر
﴿ اللَّهُ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ وَيَقدِرُ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ ﴾
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ(1) ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے.(2)
سورہ العنکبوت کی آیت (63) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن نَزَّلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَحيا بِهِ الأَرضَ مِن بَعدِ مَوتِها لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعقِلونَ ﴾
اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔