صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (436) از سورہ فاطر

آیات 12 سے 18 تک

54 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ فاطر کی آیت (12) کی تفسیر

﴿ وَما يَستَوِى البَحرانِ هٰذا عَذبٌ فُراتٌ سائِغٌ شَرابُهُ وَهٰذا مِلحٌ أُجاجٌ ۖ وَمِن كُلٍّ تَأكُلونَ لَحمًا طَرِيًّا وَتَستَخرِجونَ حِليَةً تَلبَسونَها ۖ وَتَرَى الفُلكَ فيهِ مَواخِرَ لِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴾

اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا پینے میں خوشگوار اور یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا، تم ان دونوں میں سے تازه گوشت کھاتے ہو اور وه زیوارت نکالتے ہو جنہیں تم پہنتے ہو۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی کشتیاں پانی کو چیرنے پھاڑنے(1) والی ان دریاؤں میں ہیں تاکہ تم اس کا فضل ڈھونڈو اور تاکہ تم اس کا شکر کرو.

سورہ فاطر کی آیت (13) کی تفسیر

﴿ يولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَيولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم لَهُ المُلكُ ۚ وَالَّذينَ تَدعونَ مِن دونِهِ ما يَملِكونَ مِن قِطميرٍ ﴾

وه رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب وماہتاب کو اسی نے کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے۔ یہی ہے اللہ(1) تم سب کا پالنے واﻻ اسی کی سلطنت ہے۔ جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں.(2)

سورہ فاطر کی آیت (14) کی تفسیر

﴿ إِن تَدعوهُم لا يَسمَعوا دُعاءَكُم وَلَو سَمِعوا مَا استَجابوا لَكُم ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ يَكفُرونَ بِشِركِكُم ۚ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثلُ خَبيرٍ ﴾

اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں(1) اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے(2)، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے(3)۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا.(4)

سورہ فاطر کی آیت (15) کی تفسیر

﴿ ۞ يٰأَيُّهَا النّاسُ أَنتُمُ الفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ ﴾

اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو(1) اور اللہ بےنیاز(2) خوبیوں واﻻ ہے.(3)

سورہ فاطر کی آیت (16) کی تفسیر

﴿ إِن يَشَأ يُذهِبكُم وَيَأتِ بِخَلقٍ جَديدٍ ﴾

اگر وه چاہے تو تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کردے.(1)

سورہ فاطر کی آیت (17) کی تفسیر

﴿ وَما ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزيزٍ ﴾

اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں.

سورہ فاطر کی آیت (18) کی تفسیر

﴿ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۚ وَإِن تَدعُ مُثقَلَةٌ إِلىٰ حِملِها لا يُحمَل مِنهُ شَيءٌ وَلَو كانَ ذا قُربىٰ ۗ إِنَّما تُنذِرُ الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم بِالغَيبِ وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ ۚ وَمَن تَزَكّىٰ فَإِنَّما يَتَزَكّىٰ لِنَفسِهِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ ﴾

کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا(1) ، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو(2)۔ تو صرف ان ہی کو آگاه کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں(3) اور جو بھی پاک ہوجائے وه اپنے ہی نفع کے لئے پاک ہوگا(4)۔ لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے.

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 434 آیات : 1 سے 3 صفحہ : 435 آیات : 4 سے 11 صفحہ : 436 آیات : 12 سے 18 صفحہ : 437 آیات : 19 سے 30 صفحہ : 438 آیات : 31 سے 38 صفحہ : 439 آیات : 39 سے 44