صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ فاطر کی آیت (39) کی تفسیر
﴿ هُوَ الَّذى جَعَلَكُم خَلٰئِفَ فِى الأَرضِ ۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيهِ كُفرُهُ ۖ وَلا يَزيدُ الكٰفِرينَ كُفرُهُم عِندَ رَبِّهِم إِلّا مَقتًا ۖ وَلا يَزيدُ الكٰفِرينَ كُفرُهُم إِلّا خَسارًا ﴾
وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے، اور کافروں کے لئے ان کا کفر خساره ہی بڑھنے کا باعﺚ ہوتا ہے.(1)
سورہ فاطر کی آیت (40) کی تفسیر
﴿ قُل أَرَءَيتُم شُرَكاءَكُمُ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ أَرونى ماذا خَلَقوا مِنَ الأَرضِ أَم لَهُم شِركٌ فِى السَّمٰوٰتِ أَم ءاتَينٰهُم كِتٰبًا فَهُم عَلىٰ بَيِّنَتٍ مِنهُ ۚ بَل إِن يَعِدُ الظّٰلِمونَ بَعضُهُم بَعضًا إِلّا غُرورًا ﴾
آپ کہیئے! کہ تم اپنے قرارداد شریکوں کا حال تو بتلاؤ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین میں سے کون سا (جزو) بنایا ہے یا ان کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں(1) ، بلکہ یہ ﻇالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعده کرتے آتے ہیں.(2)
سورہ فاطر کی آیت (41) کی تفسیر
﴿ ۞ إِنَّ اللَّهَ يُمسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ أَن تَزولا ۚ وَلَئِن زالَتا إِن أَمسَكَهُما مِن أَحَدٍ مِن بَعدِهِ ۚ إِنَّهُ كانَ حَليمًا غَفورًا ﴾
یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وه ٹل نہ جائیں(1) اور اگر وه ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا(2)۔ وه حلیم غفور ہے.(3)
سورہ فاطر کی آیت (42) کی تفسیر
﴿ وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم لَئِن جاءَهُم نَذيرٌ لَيَكونُنَّ أَهدىٰ مِن إِحدَى الأُمَمِ ۖ فَلَمّا جاءَهُم نَذيرٌ ما زادَهُم إِلّا نُفورًا ﴾
اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں(1) ۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے(2) تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا.
سورہ فاطر کی آیت (43) کی تفسیر
﴿ استِكبارًا فِى الأَرضِ وَمَكرَ السَّيِّئِ ۚ وَلا يَحيقُ المَكرُ السَّيِّئُ إِلّا بِأَهلِهِ ۚ فَهَل يَنظُرونَ إِلّا سُنَّتَ الأَوَّلينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبديلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحويلًا ﴾
دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے(1) ، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے(2) اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے(3)، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے(4)۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے(5)، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے.(6)
سورہ فاطر کی آیت (44) کی تفسیر
﴿ أَوَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَكانوا أَشَدَّ مِنهُم قُوَّةً ۚ وَما كانَ اللَّهُ لِيُعجِزَهُ مِن شَيءٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ ۚ إِنَّهُ كانَ عَليمًا قَديرًا ﴾
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حاﻻنکہ وه قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وه بڑے علم واﻻ، بڑی قدرت واﻻ ہے.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔