صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ اٰل عمران کی آیت (158) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن مُتُّم أَو قُتِلتُم لَإِلَى اللَّهِ تُحشَرونَ ﴾
بالیقین خواہ تم مر جاؤ یا مار ڈالے جاؤ جمع تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہی کئے جاؤ گے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (159) کی تفسیر
﴿ فَبِما رَحمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُم ۖ وَلَو كُنتَ فَظًّا غَليظَ القَلبِ لَانفَضّوا مِن حَولِكَ ۖ فَاعفُ عَنهُم وَاستَغفِر لَهُم وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ ۖ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَوَكِّلينَ ﴾
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان(1) کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں(2)، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں(3)، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (160) کی تفسیر
﴿ إِن يَنصُركُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُم ۖ وَإِن يَخذُلكُم فَمَن ذَا الَّذى يَنصُرُكُم مِن بَعدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ ﴾
اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (161) کی تفسیر
﴿ وَما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغلُل يَأتِ بِما غَلَّ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ ﴾
ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے(1) ہر خیانت کرنے واﻻ خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وه ﻇلم نہ کئے جائیں گے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (162) کی تفسیر
﴿ أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضوٰنَ اللَّهِ كَمَن باءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئسَ المَصيرُ ﴾
کیا پس وه شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے درپے ہے، اس شخص جیسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے؟ اور جس کی جگہ جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (163) کی تفسیر
﴿ هُم دَرَجٰتٌ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ ﴾
اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے الگ الگ درجے ہیں اور ان کے تمام اعمال کو اللہ بخوبی دیکھ رہا ہے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (164) کی تفسیر
﴿ لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَسولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ ﴾
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا(1) ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت(2) سکھاتا ہے(3)، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے.
سورہ اٰل عمران کی آیت (165) کی تفسیر
﴿ أَوَلَمّا أَصٰبَتكُم مُصيبَةٌ قَد أَصَبتُم مِثلَيها قُلتُم أَنّىٰ هٰذا ۖ قُل هُوَ مِن عِندِ أَنفُسِكُم ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ ﴾
(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے(1) ، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے(2)، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔