صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ صٓ کی آیت (17) کی تفسیر
﴿ اصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَاذكُر عَبدَنا داوۥدَ ذَا الأَيدِ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ ﴾
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا(1) ، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا.
سورہ صٓ کی آیت (18) کی تفسیر
﴿ إِنّا سَخَّرنَا الجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحنَ بِالعَشِىِّ وَالإِشراقِ ﴾
ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں.
سورہ صٓ کی آیت (19) کی تفسیر
﴿ وَالطَّيرَ مَحشورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوّابٌ ﴾
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے.(1)
سورہ صٓ کی آیت (20) کی تفسیر
﴿ وَشَدَدنا مُلكَهُ وَءاتَينٰهُ الحِكمَةَ وَفَصلَ الخِطابِ ﴾
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا(1) اور اسے حکمت دی تھی(2) اور بات کا فیصلہ کرنا.(3)
سورہ صٓ کی آیت (21) کی تفسیر
﴿ ۞ وَهَل أَتىٰكَ نَبَؤُا۟ الخَصمِ إِذ تَسَوَّرُوا المِحرابَ ﴾
اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے.(1)
سورہ صٓ کی آیت (22) کی تفسیر
﴿ إِذ دَخَلوا عَلىٰ داوۥدَ فَفَزِعَ مِنهُم ۖ قالوا لا تَخَف ۖ خَصمانِ بَغىٰ بَعضُنا عَلىٰ بَعضٍ فَاحكُم بَينَنا بِالحَقِّ وَلا تُشطِط وَاهدِنا إِلىٰ سَواءِ الصِّرٰطِ ﴾
جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے(1) ، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے.(2)
سورہ صٓ کی آیت (23) کی تفسیر
﴿ إِنَّ هٰذا أَخى لَهُ تِسعٌ وَتِسعونَ نَعجَةً وَلِىَ نَعجَةٌ وٰحِدَةٌ فَقالَ أَكفِلنيها وَعَزَّنى فِى الخِطابِ ﴾
(سنیے) یہ میرا بھائی ہے(1) اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے(2) اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے.(3)
سورہ صٓ کی آیت (24) کی تفسیر
﴿ قالَ لَقَد ظَلَمَكَ بِسُؤالِ نَعجَتِكَ إِلىٰ نِعاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ الخُلَطاءِ لَيَبغى بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَليلٌ ما هُم ۗ وَظَنَّ داوۥدُ أَنَّما فَتَنّٰهُ فَاستَغفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ راكِعًا وَأَنابَ ۩ ﴾
آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے(1) ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں(2) اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے(3) اور (پوری طرح) رجوع کیا.
سورہ صٓ کی آیت (25) کی تفسیر
﴿ فَغَفَرنا لَهُ ذٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ ﴾
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا(1) ، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں.
سورہ صٓ کی آیت (26) کی تفسیر
﴿ يٰداوۥدُ إِنّا جَعَلنٰكَ خَليفَةً فِى الأَرضِ فَاحكُم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَضِلّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ بِما نَسوا يَومَ الحِسابِ ﴾
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔