صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الرعد کی آیت (1) کی تفسیر
﴿ المر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ ۗ وَالَّذى أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ الحَقُّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يُؤمِنونَ ﴾
ا ل م رٰ۔ یہ قرآن کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے، سب حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں ﻻتے.
سورہ الرعد کی آیت (2) کی تفسیر
﴿ اللَّهُ الَّذى رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَونَها ۖ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الأَمرَ يُفَصِّلُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقاءِ رَبِّكُم توقِنونَ ﴾
اللہ وه ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کر رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پھر وه عرش پر قرار پکڑے ہوئے ہے(1) ، اسی نے سورج اور چاند کو ماتحتی میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر گشت کر رہا ہے(2)، وہی کام کی تدبیر کرتا ہے وه اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو.
سورہ الرعد کی آیت (3) کی تفسیر
﴿ وَهُوَ الَّذى مَدَّ الأَرضَ وَجَعَلَ فيها رَوٰسِىَ وَأَنهٰرًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فيها زَوجَينِ اثنَينِ ۖ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ ﴾
اسی نے زمین پھیلا کر بچھا دی ہے اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کردی ہیں(1) ۔ اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے دوہرے دوہرے پیدا کردیئے ہیں(2)، وه رات کو دن سے چھپا دیتا ہے۔ یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.
سورہ الرعد کی آیت (4) کی تفسیر
﴿ وَفِى الأَرضِ قِطَعٌ مُتَجٰوِرٰتٌ وَجَنّٰتٌ مِن أَعنٰبٍ وَزَرعٌ وَنَخيلٌ صِنوانٌ وَغَيرُ صِنوانٍ يُسقىٰ بِماءٍ وٰحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعضَها عَلىٰ بَعضٍ فِى الأُكُلِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَعقِلونَ ﴾
اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے لگتے لگاتے ہیں(1) اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں(2) جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں۔ پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں(3) اس میں عقل مندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
سورہ الرعد کی آیت (5) کی تفسیر
﴿ ۞ وَإِن تَعجَب فَعَجَبٌ قَولُهُم أَءِذا كُنّا تُرٰبًا أَءِنّا لَفى خَلقٍ جَديدٍ ۗ أُولٰئِكَ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم ۖ وَأُولٰئِكَ الأَغلٰلُ فى أَعناقِهِم ۖ وَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ ﴾
اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے۔ تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے(1) ؟ یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی ہیں جو جہنم کے رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔