صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (251) از سورہ الرعد

آیات 14 سے 18 تک

53 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ الرعد کی آیت (14) کی تفسیر

﴿ لَهُ دَعوَةُ الحَقِّ ۖ وَالَّذينَ يَدعونَ مِن دونِهِ لا يَستَجيبونَ لَهُم بِشَيءٍ إِلّا كَبٰسِطِ كَفَّيهِ إِلَى الماءِ لِيَبلُغَ فاهُ وَما هُوَ بِبٰلِغِهِ ۚ وَما دُعاءُ الكٰفِرينَ إِلّا فى ضَلٰلٍ ﴾

اسی کو پکارنا حق ہے(1) ۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وه ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منھ میں پڑ جائے حاﻻنکہ وه پانی اس کے منھ میں پہنچنے واﻻ نہیں(2)، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے.(3)

سورہ الرعد کی آیت (15) کی تفسیر

﴿ وَلِلَّهِ يَسجُدُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ طَوعًا وَكَرهًا وَظِلٰلُهُم بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ ۩ ﴾

اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجده کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام.(1)

سورہ الرعد کی آیت (16) کی تفسیر

﴿ قُل مَن رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُل أَفَاتَّخَذتُم مِن دونِهِ أَولِياءَ لا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم نَفعًا وَلا ضَرًّا ۚ قُل هَل يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ أَم هَل تَستَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنّورُ ۗ أَم جَعَلوا لِلَّهِ شُرَكاءَ خَلَقوا كَخَلقِهِ فَتَشٰبَهَ الخَلقُ عَلَيهِم ۚ قُلِ اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ وَهُوَ الوٰحِدُ القَهّٰرُ ﴾

آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ(1) ۔ کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے(2)۔ کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہے(3)۔ کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وه اکیلا ہے(4) اور زبردست غالب ہے.

سورہ الرعد کی آیت (17) کی تفسیر

﴿ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَسالَت أَودِيَةٌ بِقَدَرِها فَاحتَمَلَ السَّيلُ زَبَدًا رابِيًا ۚ وَمِمّا يوقِدونَ عَلَيهِ فِى النّارِ ابتِغاءَ حِليَةٍ أَو مَتٰعٍ زَبَدٌ مِثلُهُ ۚ كَذٰلِكَ يَضرِبُ اللَّهُ الحَقَّ وَالبٰطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذهَبُ جُفاءً ۖ وَأَمّا ما يَنفَعُ النّاسَ فَيَمكُثُ فِى الأَرضِ ۚ كَذٰلِكَ يَضرِبُ اللَّهُ الأَمثالَ ﴾

اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہہ نکلے(1) ۔ پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھے جھاگ کو اٹھا لیا(2)، اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا ساز وسامان کے لئے اسی طرح کے جھاگ ہیں(3)، اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے(4)، اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے(5) لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے(6)، اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے.(7)

سورہ الرعد کی آیت (18) کی تفسیر

﴿ لِلَّذينَ استَجابوا لِرَبِّهِمُ الحُسنىٰ ۚ وَالَّذينَ لَم يَستَجيبوا لَهُ لَو أَنَّ لَهُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا وَمِثلَهُ مَعَهُ لَافتَدَوا بِهِ ۚ أُولٰئِكَ لَهُم سوءُ الحِسابِ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَبِئسَ المِهادُ ﴾

جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حکم برداری نہ کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وه سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں(1) ۔ یہی ہیں جن کے لئے برا حساب ہے(2) اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے.

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 249 آیات : 1 سے 5 صفحہ : 250 آیات : 6 سے 13 صفحہ : 251 آیات : 14 سے 18 صفحہ : 252 آیات : 19 سے 28 صفحہ : 253 آیات : 29 سے 34 صفحہ : 254 آیات : 35 سے 42 صفحہ : 255 آیات : 43 سے 43