صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (94) کی تفسیر
﴿ قُل إِن كانَت لَكُمُ الدّارُ الءاخِرَةُ عِندَ اللَّهِ خالِصَةً مِن دونِ النّاسِ فَتَمَنَّوُا المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ ﴾
آپ کہہ دیجیئے کہ اگر آخرت کا گھر صرف تمہارے ہی لئے ہے، اللہ کے نزدیک اور کسی کے لئے نہیں، تو آو اپنی سچائی کے ﺛبوت میں موت طلب کرو۔
سورہ البقرہ کی آیت (95) کی تفسیر
﴿ وَلَن يَتَمَنَّوهُ أَبَدًا بِما قَدَّمَت أَيديهِم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ ﴾
لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے(1) اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (96) کی تفسیر
﴿ وَلَتَجِدَنَّهُم أَحرَصَ النّاسِ عَلىٰ حَيوٰةٍ وَمِنَ الَّذينَ أَشرَكوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُم لَو يُعَمَّرُ أَلفَ سَنَةٍ وَما هُوَ بِمُزَحزِحِهِ مِنَ العَذابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصيرٌ بِما يَعمَلونَ ﴾
بلکہ سب سے زیاده دنیا کی زندگی کا حریص اے نبی! آپ انہیں کو پائیں گے۔ یہ حرص زندگی میں مشرکوں سے بھی زیاده ہیں(1) ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے، گویا یہ عمر دیا جانا بھی انہیں عذاب سے نہیں چھڑا سکتا، اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو بخوبی دیکھ رہا ہے
سورہ البقرہ کی آیت (97) کی تفسیر
﴿ قُل مَن كانَ عَدُوًّا لِجِبريلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلىٰ قَلبِكَ بِإِذنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ وَهُدًى وَبُشرىٰ لِلمُؤمِنينَ ﴾
(اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے : جو شخص جبریل کا دشمن ہے، تو بے شک اس نے اس (قرآن) کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے، جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے واﻻ ہے(1) (تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے)۔
سورہ البقرہ کی آیت (98) کی تفسیر
﴿ مَن كانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلٰئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبريلَ وَميكىٰلَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلكٰفِرينَ ﴾
جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے۔(1)
سورہ البقرہ کی آیت (99) کی تفسیر
﴿ وَلَقَد أَنزَلنا إِلَيكَ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ ۖ وَما يَكفُرُ بِها إِلَّا الفٰسِقونَ ﴾
اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا۔
سورہ البقرہ کی آیت (100) کی تفسیر
﴿ أَوَكُلَّما عٰهَدوا عَهدًا نَبَذَهُ فَريقٌ مِنهُم ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يُؤمِنونَ ﴾
یہ لوگ جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں توان کی ایک نہ ایک جماعت اسے توڑ دیتی ہے، بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔
سورہ البقرہ کی آیت (101) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا جاءَهُم رَسولٌ مِن عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِما مَعَهُم نَبَذَ فَريقٌ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ كِتٰبَ اللَّهِ وَراءَ ظُهورِهِم كَأَنَّهُم لا يَعلَمونَ ﴾
جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا، گویا جانتے ہی نہ تھے۔(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔