صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ البقرہ کی آیت (211) کی تفسیر
﴿ سَل بَنى إِسرٰءيلَ كَم ءاتَينٰهُم مِن ءايَةٍ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَن يُبَدِّل نِعمَةَ اللَّهِ مِن بَعدِ ما جاءَتهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ ﴾
بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں(1) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وه جان لے)(2) کہ اللہ تعالیٰ بھی سخت عذابوں واﻻ ہے
سورہ البقرہ کی آیت (212) کی تفسیر
﴿ زُيِّنَ لِلَّذينَ كَفَرُوا الحَيوٰةُ الدُّنيا وَيَسخَرونَ مِنَ الَّذينَ ءامَنوا ۘ وَالَّذينَ اتَّقَوا فَوقَهُم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ وَاللَّهُ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ ﴾
کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے، وه ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں(1) ، حاﻻنکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے۔(2)
سورہ البقرہ کی آیت (213) کی تفسیر
﴿ كانَ النّاسُ أُمَّةً وٰحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيّۦنَ مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتٰبَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النّاسِ فيمَا اختَلَفوا فيهِ ۚ وَمَا اختَلَفَ فيهِ إِلَّا الَّذينَ أوتوهُ مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنٰتُ بَغيًا بَينَهُم ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا لِمَا اختَلَفوا فيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ ﴾
دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے(1) اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا(2) اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیئت سے رہبری کی(3) اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے
سورہ البقرہ کی آیت (214) کی تفسیر
﴿ أَم حَسِبتُم أَن تَدخُلُوا الجَنَّةَ وَلَمّا يَأتِكُم مَثَلُ الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلِكُم ۖ مَسَّتهُمُ البَأساءُ وَالضَّرّاءُ وَزُلزِلوا حَتّىٰ يَقولَ الرَّسولُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ مَتىٰ نَصرُ اللَّهِ ۗ أَلا إِنَّ نَصرَ اللَّهِ قَريبٌ ﴾
کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک تم پر وه حاﻻت نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے(1) ۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔(2)
سورہ البقرہ کی آیت (215) کی تفسیر
﴿ يَسـَٔلونَكَ ماذا يُنفِقونَ ۖ قُل ما أَنفَقتُم مِن خَيرٍ فَلِلوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينِ وَابنِ السَّبيلِ ۗ وَما تَفعَلوا مِن خَيرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ ﴾
آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے(1) اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔