صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (40) از سورہ البقرہ

آیات 246 سے 248 تک

140 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ البقرہ کی آیت (246) کی تفسیر

﴿ أَلَم تَرَ إِلَى المَلَإِ مِن بَنى إِسرٰءيلَ مِن بَعدِ موسىٰ إِذ قالوا لِنَبِىٍّ لَهُمُ ابعَث لَنا مَلِكًا نُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ قالَ هَل عَسَيتُم إِن كُتِبَ عَلَيكُمُ القِتالُ أَلّا تُقٰتِلوا ۖ قالوا وَما لَنا أَلّا نُقٰتِلَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَقَد أُخرِجنا مِن دِيٰرِنا وَأَبنائِنا ۖ فَلَمّا كُتِبَ عَلَيهِمُ القِتالُ تَوَلَّوا إِلّا قَليلًا مِنهُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ ﴾

کیا آپ نے (حضرت) موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا(1) جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاه بنا دیجیئے(2) تاکہ ہم اللہ کی راه میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو، انہوں نے کہا بھلا ہم اللہ کی راه میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔

سورہ البقرہ کی آیت (247) کی تفسیر

﴿ وَقالَ لَهُم نَبِيُّهُم إِنَّ اللَّهَ قَد بَعَثَ لَكُم طالوتَ مَلِكًا ۚ قالوا أَنّىٰ يَكونُ لَهُ المُلكُ عَلَينا وَنَحنُ أَحَقُّ بِالمُلكِ مِنهُ وَلَم يُؤتَ سَعَةً مِنَ المالِ ۚ قالَ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰهُ عَلَيكُم وَزادَهُ بَسطَةً فِى العِلمِ وَالجِسمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤتى مُلكَهُ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ ﴾

اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاه بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیاده حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیده کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے(1) بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے، اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔

سورہ البقرہ کی آیت (248) کی تفسیر

﴿ وَقالَ لَهُم نَبِيُّهُم إِنَّ ءايَةَ مُلكِهِ أَن يَأتِيَكُمُ التّابوتُ فيهِ سَكينَةٌ مِن رَبِّكُم وَبَقِيَّةٌ مِمّا تَرَكَ ءالُ موسىٰ وَءالُ هٰرونَ تَحمِلُهُ المَلٰئِكَةُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴾

ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ﻇاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وه صندوق(1) آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے، فرشتے اسے اٹھا کر ﻻئیں گے۔ یقیناً یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 2 آیات : 1 سے 5 صفحہ : 3 آیات : 6 سے 16 صفحہ : 4 آیات : 17 سے 24 صفحہ : 5 آیات : 25 سے 29 صفحہ : 6 آیات : 30 سے 37 صفحہ : 7 آیات : 38 سے 48 صفحہ : 8 آیات : 49 سے 57 صفحہ : 9 آیات : 58 سے 61 صفحہ : 10 آیات : 62 سے 69 صفحہ : 11 آیات : 70 سے 76 صفحہ : 12 آیات : 77 سے 83 صفحہ : 13 آیات : 84 سے 88 صفحہ : 14 آیات : 89 سے 93 صفحہ : 15 آیات : 94 سے 101 صفحہ : 16 آیات : 102 سے 105 صفحہ : 17 آیات : 106 سے 112 صفحہ : 18 آیات : 113 سے 119 صفحہ : 19 آیات : 120 سے 126 صفحہ : 20 آیات : 127 سے 134 صفحہ : 21 آیات : 135 سے 141 صفحہ : 22 آیات : 142 سے 145 صفحہ : 23 آیات : 146 سے 153 صفحہ : 24 آیات : 154 سے 163 صفحہ : 25 آیات : 164 سے 169 صفحہ : 26 آیات : 170 سے 176 صفحہ : 27 آیات : 177 سے 181 صفحہ : 28 آیات : 182 سے 186 صفحہ : 29 آیات : 187 سے 190 صفحہ : 30 آیات : 191 سے 196 صفحہ : 31 آیات : 197 سے 202 صفحہ : 32 آیات : 203 سے 210 صفحہ : 33 آیات : 211 سے 215 صفحہ : 34 آیات : 216 سے 219 صفحہ : 35 آیات : 220 سے 224 صفحہ : 36 آیات : 225 سے 230 صفحہ : 37 آیات : 231 سے 233 صفحہ : 38 آیات : 234 سے 237 صفحہ : 39 آیات : 238 سے 245 صفحہ : 40 آیات : 246 سے 248 صفحہ : 41 آیات : 249 سے 252 صفحہ : 42 آیات : 253 سے 256 صفحہ : 43 آیات : 257 سے 259 صفحہ : 44 آیات : 260 سے 264 صفحہ : 45 آیات : 265 سے 269 صفحہ : 46 آیات : 270 سے 274 صفحہ : 47 آیات : 275 سے 281 صفحہ : 48 آیات : 282 سے 282 صفحہ : 49 آیات : 283 سے 286