صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الزخرف کی آیت (34) کی تفسیر
﴿ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَٰبًۭا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِـُٔونَ ﴾
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وه تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے.
سورہ الزخرف کی آیت (35) کی تفسیر
﴿ وَزُخْرُفًۭا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَٱلْءَاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ﴾
اور سونے کے بھی(1) ، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (36) کی تفسیر
﴿ وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ ٱلرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُۥ شَيْطَٰنًۭا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٌۭ ﴾
اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے(1) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (37) کی تفسیر
﴿ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ﴾
اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (38) کی تفسیر
﴿ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَٰلَيْتَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ بُعْدَ ٱلْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ ٱلْقَرِينُ ﴾
یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (39) کی تفسیر
﴿ وَلَن يَنفَعَكُمُ ٱلْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ﴾
اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا.
سورہ الزخرف کی آیت (40) کی تفسیر
﴿ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ أَوْ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَمَن كَانَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ﴾
کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (41) کی تفسیر
﴿ فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ ﴾
پس اگر ہم تجھے یہاں سے(1) لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (42) کی تفسیر
﴿ أَوْ نُرِيَنَّكَ ٱلَّذِى وَعَدْنَٰهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُونَ ﴾
یا جو کچھ ان سے وعده کیا ہے(1) وه تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (43) کی تفسیر
﴿ فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِىَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ﴾
پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں(1) بیشک آپ راه راست پر ہیں.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (44) کی تفسیر
﴿ وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٌۭ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ ﴾
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ(1) کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے.
سورہ الزخرف کی آیت (45) کی تفسیر
﴿ وَسْـَٔلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ ٱلرَّحْمَٰنِ ءَالِهَةًۭ يُعْبَدُونَ ﴾
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم(1) نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟(2)
سورہ الزخرف کی آیت (46) کی تفسیر
﴿ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَقَالَ إِنِّى رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴾
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (47) کی تفسیر
﴿ فَلَمَّا جَآءَهُم بِـَٔايَٰتِنَآ إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ ﴾
پس جب وه ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وه بےساختہ ان پر ہنسنے لگے.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔