صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الزخرف کی آیت (48) کی تفسیر
﴿ وَمَا نُرِيهِم مِّنْ ءَايَةٍ إِلَّا هِىَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَٰهُم بِٱلْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴾
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی(1) اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (49) کی تفسیر
﴿ وَقَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَ ٱلسَّاحِرُ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ ﴾
اور انہوں نے کہا اے جادوگر(1) ! ہمارے لیے اپنے رب سے(2) اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے(3)، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے.(4)
سورہ الزخرف کی آیت (50) کی تفسیر
﴿ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ﴾
پھر جب ہم نے وه عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا.
سورہ الزخرف کی آیت (51) کی تفسیر
﴿ وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِى قَوْمِهِۦ قَالَ يَٰقَوْمِ أَلَيْسَ لِى مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ ٱلْأَنْهَٰرُ تَجْرِى مِن تَحْتِىٓ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴾
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا(1) اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں(2)، کیا تم دیکھتے نہیں؟
سورہ الزخرف کی آیت (52) کی تفسیر
﴿ أَمْ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْ هَٰذَا ٱلَّذِى هُوَ مَهِينٌۭ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ﴾
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے(1) اور صاف بول بھی نہیں سکتا.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (53) کی تفسیر
﴿ فَلَوْلَآ أُلْقِىَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌۭ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَآءَ مَعَهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِينَ ﴾
اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے(1) یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (54) کی تفسیر
﴿ فَٱسْتَخَفَّ قَوْمَهُۥ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًۭا فَٰسِقِينَ ﴾
اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی(1) ، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے.
سورہ الزخرف کی آیت (55) کی تفسیر
﴿ فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ أَجْمَعِينَ ﴾
پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دﻻیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا.
سورہ الزخرف کی آیت (56) کی تفسیر
﴿ فَجَعَلْنَٰهُمْ سَلَفًۭا وَمَثَلًۭا لِّلْءَاخِرِينَ ﴾
پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (57) کی تفسیر
﴿ ۞ وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ﴾
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے.
سورہ الزخرف کی آیت (58) کی تفسیر
﴿ وَقَالُوٓا۟ ءَأَٰلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًۢا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ﴾
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (59) کی تفسیر
﴿ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَٰهُ مَثَلًۭا لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ﴾
عیسیٰ (علیہ السلام) بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (60) کی تفسیر
﴿ وَلَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَٰٓئِكَةًۭ فِى ٱلْأَرْضِ يَخْلُفُونَ ﴾
اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔