صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الزخرف کی آیت (74) کی تفسیر
﴿ إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى عَذَابِ جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ ﴾
بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے.
سورہ الزخرف کی آیت (75) کی تفسیر
﴿ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ﴾
یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وه اسی میں مایوس پڑے رہیں گے.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (76) کی تفسیر
﴿ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلظَّٰلِمِينَ ﴾
اور ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ﻇالم تھے.
سورہ الزخرف کی آیت (77) کی تفسیر
﴿ وَنَادَوْا۟ يَٰمَٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّٰكِثُونَ ﴾
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک(1) ! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے(2)، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے.(3)
سورہ الزخرف کی آیت (78) کی تفسیر
﴿ لَقَدْ جِئْنَٰكُم بِٱلْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَٰرِهُونَ ﴾
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق(1) سے نفرت رکھنے والے تھے؟
سورہ الزخرف کی آیت (79) کی تفسیر
﴿ أَمْ أَبْرَمُوٓا۟ أَمْرًۭا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ ﴾
کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ اراده کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (80) کی تفسیر
﴿ أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَىٰهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ ﴾
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں(1) ) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (81) کی تفسیر
﴿ قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌۭ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْعَٰبِدِينَ ﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر بالفرض رحمٰن کی اوﻻد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے واﻻ ہوتا.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (82) کی تفسیر
﴿ سُبْحَٰنَ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴾
آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے.(1)
سورہ الزخرف کی آیت (83) کی تفسیر
﴿ فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ﴾
اب آپ انہیں اسی بحﺚ مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے(1) ، یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑجائے جن کا یہ وعده دیے جاتے ہیں.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (84) کی تفسیر
﴿ وَهُوَ ٱلَّذِى فِى ٱلسَّمَآءِ إِلَٰهٌۭ وَفِى ٱلْأَرْضِ إِلَٰهٌۭ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ ﴾
وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے(1) اور وه بڑی حکمت واﻻ اور پورے علم واﻻ ہے.
سورہ الزخرف کی آیت (85) کی تفسیر
﴿ وَتَبَارَكَ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾
اور وه بہت برکتوں واﻻ ہے جس کے پاس آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے(1) ، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے(2) اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے.(3)
سورہ الزخرف کی آیت (86) کی تفسیر
﴿ وَلَا يَمْلِكُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴾
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے(1) ، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو.(2)
سورہ الزخرف کی آیت (87) کی تفسیر
﴿ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ﴾
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟
سورہ الزخرف کی آیت (88) کی تفسیر
﴿ وَقِيلِهِۦ يَٰرَبِّ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌۭ لَّا يُؤْمِنُونَ ﴾
اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا(1) کہ اے میرے رب! یقیناً یہ وه لوگ ہیں جو ایمان نہیں ﻻتے.
سورہ الزخرف کی آیت (89) کی تفسیر
﴿ فَٱصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَٰمٌۭ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴾
پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام(1) ! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔