صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (18) کی تفسیر
﴿ وَقالَتِ اليَهودُ وَالنَّصٰرىٰ نَحنُ أَبنٰؤُا۟ اللَّهِ وَأَحِبّٰؤُهُ ۚ قُل فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنوبِكُم ۖ بَل أَنتُم بَشَرٌ مِمَّن خَلَقَ ۚ يَغفِرُ لِمَن يَشاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ وَإِلَيهِ المَصيرُ ﴾
یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں(1) ، آپ کہہ دیجیئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کے باعﺚ اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟(2) نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو وه جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے(3)، زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (19) کی تفسیر
﴿ يٰأَهلَ الكِتٰبِ قَد جاءَكُم رَسولُنا يُبَيِّنُ لَكُم عَلىٰ فَترَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَن تَقولوا ما جاءَنا مِن بَشيرٍ وَلا نَذيرٍ ۖ فَقَد جاءَكُم بَشيرٌ وَنَذيرٌ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ ﴾
اے اہل کتاب! بالیقین ہمارا رسول تمہارے پاس رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد آ پہنچا ہے۔ جو تمہارے لئے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ ره جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے واﻻ آیا ہی نہیں، پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے واﻻ اور آگاه کرنے واﻻ آ پہنچا(1) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (20) کی تفسیر
﴿ وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يٰقَومِ اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ جَعَلَ فيكُم أَنبِياءَ وَجَعَلَكُم مُلوكًا وَءاتىٰكُم ما لَم يُؤتِ أَحَدًا مِنَ العٰلَمينَ ﴾
اور یاد کرو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاه بنا دیا(1) اور تمہیں وه دیا جو تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا۔(2)
سورہ المائدہ کی آیت (21) کی تفسیر
﴿ يٰقَومِ ادخُلُوا الأَرضَ المُقَدَّسَةَ الَّتى كَتَبَ اللَّهُ لَكُم وَلا تَرتَدّوا عَلىٰ أَدبارِكُم فَتَنقَلِبوا خٰسِرينَ ﴾
اے میری قوم والو! اس مقدس زمین(1) میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے(2) اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو(3) کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔
سورہ المائدہ کی آیت (22) کی تفسیر
﴿ قالوا يٰموسىٰ إِنَّ فيها قَومًا جَبّارينَ وَإِنّا لَن نَدخُلَها حَتّىٰ يَخرُجوا مِنها فَإِن يَخرُجوا مِنها فَإِنّا دٰخِلونَ ﴾
انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وه وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وه وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم (بخوشی) چلے جائیں گے۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (23) کی تفسیر
﴿ قالَ رَجُلانِ مِنَ الَّذينَ يَخافونَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِمَا ادخُلوا عَلَيهِمُ البابَ فَإِذا دَخَلتُموهُ فَإِنَّكُم غٰلِبونَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلوا إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴾
دو شخصوں نے جو خدا ترس لوگوں میں سے تھے، جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہا کہ تم ان کے پاس دروازے میں تو پہنچ جاؤ، دروازے میں قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آجاؤ گے، اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔