صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (24) کی تفسیر
﴿ قالوا يٰموسىٰ إِنّا لَن نَدخُلَها أَبَدًا ما داموا فيها ۖ فَاذهَب أَنتَ وَرَبُّكَ فَقٰتِلا إِنّا هٰهُنا قٰعِدونَ ﴾
قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وه وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑ بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (25) کی تفسیر
﴿ قالَ رَبِّ إِنّى لا أَملِكُ إِلّا نَفسى وَأَخى ۖ فَافرُق بَينَنا وَبَينَ القَومِ الفٰسِقينَ ﴾
موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے الٰہی! مجھے تو بجز اپنے اور میرے بھائی کے کسی اور پر کوئی اختیار نہیں، پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں جدائی کردے۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (26) کی تفسیر
﴿ قالَ فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيهِم ۛ أَربَعينَ سَنَةً ۛ يَتيهونَ فِى الأَرضِ ۚ فَلا تَأسَ عَلَى القَومِ الفٰسِقينَ ﴾
ارشاد ہوا کہ اب زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے، یہ خانہ بدوش ادھر ادھر سرگرداں پھرتے رہیں گے(1) اس لئے تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہ ہونا۔(2)
سورہ المائدہ کی آیت (27) کی تفسیر
﴿ ۞ وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ ابنَى ءادَمَ بِالحَقِّ إِذ قَرَّبا قُربانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِما وَلَم يُتَقَبَّل مِنَ الءاخَرِ قالَ لَأَقتُلَنَّكَ ۖ قالَ إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ المُتَّقينَ ﴾
آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو(1) ، ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی(2) تو وه کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (28) کی تفسیر
﴿ لَئِن بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقتُلَنى ما أَنا۠ بِباسِطٍ يَدِىَ إِلَيكَ لِأَقتُلَكَ ۖ إِنّى أَخافُ اللَّهَ رَبَّ العٰلَمينَ ﴾
گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا، میں تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے خوف کھاتا ہوں۔
سورہ المائدہ کی آیت (29) کی تفسیر
﴿ إِنّى أُريدُ أَن تَبوأَ بِإِثمى وَإِثمِكَ فَتَكونَ مِن أَصحٰبِ النّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰؤُا۟ الظّٰلِمينَ ﴾
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناه اور اپنے گناه اپنے سر پر رکھ لے(1) اور دوزخیوں میں شامل ہوجائے، ﻇالموں کا یہی بدلہ ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (30) کی تفسیر
﴿ فَطَوَّعَت لَهُ نَفسُهُ قَتلَ أَخيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصبَحَ مِنَ الخٰسِرينَ ﴾
پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آماده کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈاﻻ، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا۔(1)
سورہ المائدہ کی آیت (31) کی تفسیر
﴿ فَبَعَثَ اللَّهُ غُرابًا يَبحَثُ فِى الأَرضِ لِيُرِيَهُ كَيفَ يُوٰرى سَوءَةَ أَخيهِ ۚ قالَ يٰوَيلَتىٰ أَعَجَزتُ أَن أَكونَ مِثلَ هٰذَا الغُرابِ فَأُوٰرِىَ سَوءَةَ أَخى ۖ فَأَصبَحَ مِنَ النّٰدِمينَ ﴾
پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وه کس طرح اپنے بھائی کی نعش کو چھپا دے، وه کہنے لگا، ہائے افسوس! کیا میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہوگیا کہ اس کوے کی طرح اپنے بھائی کی ﻻش کو دفنا دیتا؟ پھر تو (بڑا ہی) پشیمان اور شرمنده ہوگیا۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔