صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یوسف کی آیت (15) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا ذَهَبوا بِهِ وَأَجمَعوا أَن يَجعَلوهُ فى غَيٰبَتِ الجُبِّ ۚ وَأَوحَينا إِلَيهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمرِهِم هٰذا وَهُم لا يَشعُرونَ ﴾
پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیر آباد گہرے کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں، ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ یقیناً (وقت آرہا ہے کہ) تو انہیں اس ماجرا کی خبر اس حال میں دے گا کہ وه جانتے ہی نہ ہوں.(1)
سورہ یوسف کی آیت (16) کی تفسیر
﴿ وَجاءو أَباهُم عِشاءً يَبكونَ ﴾
اور عشا کے وقت (وه سب) اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے.
سورہ یوسف کی آیت (17) کی تفسیر
﴿ قالوا يٰأَبانا إِنّا ذَهَبنا نَستَبِقُ وَتَرَكنا يوسُفَ عِندَ مَتٰعِنا فَأَكَلَهُ الذِّئبُ ۖ وَما أَنتَ بِمُؤمِنٍ لَنا وَلَو كُنّا صٰدِقينَ ﴾
اور کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑا پس اسے بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات نہیں مانیں گے، گو ہم بالکل سچے ہی ہوں.(1)
سورہ یوسف کی آیت (18) کی تفسیر
﴿ وَجاءو عَلىٰ قَميصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قالَ بَل سَوَّلَت لَكُم أَنفُسُكُم أَمرًا ۖ فَصَبرٌ جَميلٌ ۖ وَاللَّهُ المُستَعانُ عَلىٰ ما تَصِفونَ ﴾
اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے(1) ، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے.(2)
سورہ یوسف کی آیت (19) کی تفسیر
﴿ وَجاءَت سَيّارَةٌ فَأَرسَلوا وارِدَهُم فَأَدلىٰ دَلوَهُ ۖ قالَ يٰبُشرىٰ هٰذا غُلٰمٌ ۚ وَأَسَرّوهُ بِضٰعَةً ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ بِما يَعمَلونَ ﴾
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی ﻻنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واه واه خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے(1) ، انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا (2)اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وه کر رہے (3)تھے.
سورہ یوسف کی آیت (20) کی تفسیر
﴿ وَشَرَوهُ بِثَمَنٍ بَخسٍ دَرٰهِمَ مَعدودَةٍ وَكانوا فيهِ مِنَ الزّٰهِدينَ ﴾
اور انہوں نے(1) اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈاﻻ، وه تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے.(2)
سورہ یوسف کی آیت (21) کی تفسیر
﴿ وَقالَ الَّذِى اشتَرىٰهُ مِن مِصرَ لِامرَأَتِهِ أَكرِمى مَثوىٰهُ عَسىٰ أَن يَنفَعَنا أَو نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ۚ وَكَذٰلِكَ مَكَّنّا لِيوسُفَ فِى الأَرضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأويلِ الأَحاديثِ ۚ وَاللَّهُ غالِبٌ عَلىٰ أَمرِهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ ﴾
مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی (1) سے کہا کہ اسے بہت عزت واحترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائده پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں، یوں ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف کا قدم جما (2)دیا کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں۔ اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں.
سورہ یوسف کی آیت (22) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا بَلَغَ أَشُدَّهُ ءاتَينٰهُ حُكمًا وَعِلمًا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ ﴾
اور جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا(1) ، ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔