صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یوسف کی آیت (64) کی تفسیر
﴿ قالَ هَل ءامَنُكُم عَلَيهِ إِلّا كَما أَمِنتُكُم عَلىٰ أَخيهِ مِن قَبلُ ۖ فَاللَّهُ خَيرٌ حٰفِظًا ۖ وَهُوَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ ﴾
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا(1) ، بس اللہ ہی بہترین حافﻆ ہے اور وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے.(2)
سورہ یوسف کی آیت (65) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا فَتَحوا مَتٰعَهُم وَجَدوا بِضٰعَتَهُم رُدَّت إِلَيهِم ۖ قالوا يٰأَبانا ما نَبغى ۖ هٰذِهِ بِضٰعَتُنا رُدَّت إِلَينا ۖ وَنَميرُ أَهلَنا وَنَحفَظُ أَخانا وَنَزدادُ كَيلَ بَعيرٍ ۖ ذٰلِكَ كَيلٌ يَسيرٌ ﴾
جب انہوں نے اپنا اسباب کھوﻻ تو اپنا سرمایہ موجود پایا جو ان کی جانب لوٹا دیا گیا تھا۔ کہنے لگے اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہیئے(1) ۔ دیکھئے تو یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کو رسد ﻻدیں گے اور اپنے بھائی کی نگرانی رکھیں گے اور ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ زیاده ﻻئیں گے(2)۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے.(3)
سورہ یوسف کی آیت (66) کی تفسیر
﴿ قالَ لَن أُرسِلَهُ مَعَكُم حَتّىٰ تُؤتونِ مَوثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأتُنَّنى بِهِ إِلّا أَن يُحاطَ بِكُم ۖ فَلَمّا ءاتَوهُ مَوثِقَهُم قالَ اللَّهُ عَلىٰ ما نَقولُ وَكيلٌ ﴾
یعقوب (علیہ السلام) نے کہا! میں تو اسے ہرگز ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں رکھ کر مجھے قول وقرار نہ دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لئے جاؤ(1) ۔ جب انہوں نے پکا قول قرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے.
سورہ یوسف کی آیت (67) کی تفسیر
﴿ وَقالَ يٰبَنِىَّ لا تَدخُلوا مِن بابٍ وٰحِدٍ وَادخُلوا مِن أَبوٰبٍ مُتَفَرِّقَةٍ ۖ وَما أُغنى عَنكُم مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۖ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ ۖ وَعَلَيهِ فَليَتَوَكَّلِ المُتَوَكِّلونَ ﴾
اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا(1) ۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے(2)۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے.
سورہ یوسف کی آیت (68) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا دَخَلوا مِن حَيثُ أَمَرَهُم أَبوهُم ما كانَ يُغنى عَنهُم مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ إِلّا حاجَةً فى نَفسِ يَعقوبَ قَضىٰها ۚ وَإِنَّهُ لَذو عِلمٍ لِما عَلَّمنٰهُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ ﴾
جب وه انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا، گئے۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وه اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کر لیا(1) ، بلاشبہ وه ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.(2)
سورہ یوسف کی آیت (69) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا دَخَلوا عَلىٰ يوسُفَ ءاوىٰ إِلَيهِ أَخاهُ ۖ قالَ إِنّى أَنا۠ أَخوكَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَعمَلونَ ﴾
یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں، پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر.(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔