صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ یوسف کی آیت (38) کی تفسیر
﴿ وَاتَّبَعتُ مِلَّةَ ءاباءى إِبرٰهيمَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ ۚ ما كانَ لَنا أَن نُشرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيءٍ ۚ ذٰلِكَ مِن فَضلِ اللَّهِ عَلَينا وَعَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ ﴾
میں اپنے باپ دادوں کے دین کا پابند ہوں، یعنی ابراہیم واسحاق اور یعقوب کے دین کا(1) ، ہمیں ہرگز یہ سزاوار نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں(2)، ہم پر اور تمام اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں.
سورہ یوسف کی آیت (39) کی تفسیر
﴿ يٰصىٰحِبَىِ السِّجنِ ءَأَربابٌ مُتَفَرِّقونَ خَيرٌ أَمِ اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ ﴾
اے میرے قید خانے کے ساتھیو(1) ! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں(2)؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟
سورہ یوسف کی آیت (40) کی تفسیر
﴿ ما تَعبُدونَ مِن دونِهِ إِلّا أَسماءً سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما أَنزَلَ اللَّهُ بِها مِن سُلطٰنٍ ۚ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ ۚ ذٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ ﴾
اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی(1) ، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست (2)ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.(3)
سورہ یوسف کی آیت (41) کی تفسیر
﴿ يٰصىٰحِبَىِ السِّجنِ أَمّا أَحَدُكُما فَيَسقى رَبَّهُ خَمرًا ۖ وَأَمَّا الءاخَرُ فَيُصلَبُ فَتَأكُلُ الطَّيرُ مِن رَأسِهِ ۚ قُضِىَ الأَمرُ الَّذى فيهِ تَستَفتِيانِ ﴾
اے میرے قیدخانے کے رفیقو(1) ! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاه کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا(2)، لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کھائیں گے(3)، تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کردیا گیا.(4)
سورہ یوسف کی آیت (42) کی تفسیر
﴿ وَقالَ لِلَّذى ظَنَّ أَنَّهُ ناجٍ مِنهُمَا اذكُرنى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسىٰهُ الشَّيطٰنُ ذِكرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِى السِّجنِ بِضعَ سِنينَ ﴾
اور جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاه سے میرا ذکر بھی کر دینا، پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاه سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف نے کئی سال قیدخانے میں ہی کاٹے.(1)
سورہ یوسف کی آیت (43) کی تفسیر
﴿ وَقالَ المَلِكُ إِنّى أَرىٰ سَبعَ بَقَرٰتٍ سِمانٍ يَأكُلُهُنَّ سَبعٌ عِجافٌ وَسَبعَ سُنبُلٰتٍ خُضرٍ وَأُخَرَ يابِسٰتٍ ۖ يٰأَيُّهَا المَلَأُ أَفتونى فى رُءيٰىَ إِن كُنتُم لِلرُّءيا تَعبُرونَ ﴾
بادشاه نے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات ﻻغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہیں ہری ہری اور دوسری سات بالکل خشک۔ اے درباریو! میرے اس خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو.
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔