صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (388) از سورہ القصص

آیات 22 سے 28 تک

50 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ القصص کی آیت (22) کی تفسیر

﴿ وَلَمّا تَوَجَّهَ تِلقاءَ مَديَنَ قالَ عَسىٰ رَبّى أَن يَهدِيَنى سَواءَ السَّبيلِ ﴾

اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راه لے چلے گا.(1)

سورہ القصص کی آیت (23) کی تفسیر

﴿ وَلَمّا وَرَدَ ماءَ مَديَنَ وَجَدَ عَلَيهِ أُمَّةً مِنَ النّاسِ يَسقونَ وَوَجَدَ مِن دونِهِمُ امرَأَتَينِ تَذودانِ ۖ قالَ ما خَطبُكُما ۖ قالَتا لا نَسقى حَتّىٰ يُصدِرَ الرِّعاءُ ۖ وَأَبونا شَيخٌ كَبيرٌ ﴾

مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے(1) اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنے (جانوروں کو) روکتی ہوئی دکھائی دیں، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے(2)، وه بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں(3) اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں.(4)

سورہ القصص کی آیت (24) کی تفسیر

﴿ فَسَقىٰ لَهُما ثُمَّ تَوَلّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقالَ رَبِّ إِنّى لِما أَنزَلتَ إِلَىَّ مِن خَيرٍ فَقيرٌ ﴾

پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں.(1)

سورہ القصص کی آیت (25) کی تفسیر

﴿ فَجاءَتهُ إِحدىٰهُما تَمشى عَلَى استِحياءٍ قالَت إِنَّ أَبى يَدعوكَ لِيَجزِيَكَ أَجرَ ما سَقَيتَ لَنا ۚ فَلَمّا جاءَهُ وَقَصَّ عَلَيهِ القَصَصَ قالَ لا تَخَف ۖ نَجَوتَ مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ ﴾

اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم وحیا سے چلتی ہوئی آئی(1) ، کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے (جانوروں) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت دیں(2)، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وه کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ﻇالم قوم سے نجات پائی.(3)

سورہ القصص کی آیت (26) کی تفسیر

﴿ قالَت إِحدىٰهُما يٰأَبَتِ استَـٔجِرهُ ۖ إِنَّ خَيرَ مَنِ استَـٔجَرتَ القَوِىُّ الأَمينُ ﴾

ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وه ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو.(1)

سورہ القصص کی آیت (27) کی تفسیر

﴿ قالَ إِنّى أُريدُ أَن أُنكِحَكَ إِحدَى ابنَتَىَّ هٰتَينِ عَلىٰ أَن تَأجُرَنى ثَمٰنِىَ حِجَجٍ ۖ فَإِن أَتمَمتَ عَشرًا فَمِن عِندِكَ ۖ وَما أُريدُ أَن أَشُقَّ عَلَيكَ ۚ سَتَجِدُنى إِن شاءَ اللَّهُ مِنَ الصّٰلِحينَ ﴾

اس بزرگ نے کہا میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں(1) اس (مہر پر) کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کریں(2)۔ ہاں اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہے میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں(3)، اللہ کو منظور ہے تو آگے چل کر آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے.(4)

سورہ القصص کی آیت (28) کی تفسیر

﴿ قالَ ذٰلِكَ بَينى وَبَينَكَ ۖ أَيَّمَا الأَجَلَينِ قَضَيتُ فَلا عُدوٰنَ عَلَىَّ ۖ وَاللَّهُ عَلىٰ ما نَقولُ وَكيلٌ ﴾

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، خیر تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہوگئی، میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے پورا کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو(1) ، ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ (گواه اور) کارساز ہے.(2)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 385 آیات : 1 سے 5 صفحہ : 386 آیات : 6 سے 13 صفحہ : 387 آیات : 14 سے 21 صفحہ : 388 آیات : 22 سے 28 صفحہ : 389 آیات : 29 سے 35 صفحہ : 390 آیات : 36 سے 43 صفحہ : 391 آیات : 44 سے 50 صفحہ : 392 آیات : 51 سے 59 صفحہ : 393 آیات : 60 سے 70 صفحہ : 394 آیات : 71 سے 77 صفحہ : 395 آیات : 78 سے 84 صفحہ : 396 آیات : 85 سے 88