صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ النساء کی آیت (148) کی تفسیر
﴿ ۞ لا يُحِبُّ اللَّهُ الجَهرَ بِالسّوءِ مِنَ القَولِ إِلّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكانَ اللَّهُ سَميعًا عَليمًا ﴾
برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کی اجازت ہے(1) اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا جانتا ہے۔
سورہ النساء کی آیت (149) کی تفسیر
﴿ إِن تُبدوا خَيرًا أَو تُخفوهُ أَو تَعفوا عَن سوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا قَديرًا ﴾
اگر تم کسی نیکی کو علانیہ کرو یا پوشیده، یا کسی برائی سے درگزر کرو(1) ، پس یقیناً اللہ تعالیٰ پوری معافی کرنے واﻻ اور پوری قدرت واﻻ ہے۔
سورہ النساء کی آیت (150) کی تفسیر
﴿ إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُريدونَ أَن يُفَرِّقوا بَينَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقولونَ نُؤمِنُ بِبَعضٍ وَنَكفُرُ بِبَعضٍ وَيُريدونَ أَن يَتَّخِذوا بَينَ ذٰلِكَ سَبيلًا ﴾
جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں۔
سورہ النساء کی آیت (151) کی تفسیر
﴿ أُولٰئِكَ هُمُ الكٰفِرونَ حَقًّا ۚ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا ﴾
یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں(1) ، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔
سورہ النساء کی آیت (152) کی تفسیر
﴿ وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَم يُفَرِّقوا بَينَ أَحَدٍ مِنهُم أُولٰئِكَ سَوفَ يُؤتيهِم أُجورَهُم ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴾
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، یہ ہیں جنہیں اللہ ان کو پورا ﺛواب دے گا(1) اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔
سورہ النساء کی آیت (153) کی تفسیر
﴿ يَسـَٔلُكَ أَهلُ الكِتٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيهِم كِتٰبًا مِنَ السَّماءِ ۚ فَقَد سَأَلوا موسىٰ أَكبَرَ مِن ذٰلِكَ فَقالوا أَرِنَا اللَّهَ جَهرَةً فَأَخَذَتهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلمِهِم ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا العِجلَ مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنٰتُ فَعَفَونا عَن ذٰلِكَ ۚ وَءاتَينا موسىٰ سُلطٰنًا مُبينًا ﴾
آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ﻻئیں(1) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تو انہوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دکھا دے، پس ان کے اس ﻇلم کے باعﺚ ان پر کڑاکے کی بجلی آ پڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، لیکن ہم نے یہ بھی معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ (اور صریح دلیل) عنایت فرمائی۔
سورہ النساء کی آیت (154) کی تفسیر
﴿ وَرَفَعنا فَوقَهُمُ الطّورَ بِميثٰقِهِم وَقُلنا لَهُمُ ادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقُلنا لَهُم لا تَعدوا فِى السَّبتِ وَأَخَذنا مِنهُم ميثٰقًا غَليظًا ﴾
اور ان کا قول لینے کے لئے ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ ﻻ کھڑا کردیا اور انہیں حکم دیا کہ سجده کرتے ہوئے دروازے میں جاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے سخت سے سخت قول وقرار لئے۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔