صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (93) از سورہ النساء

آیات 92 سے 94 تک

132 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ النساء کی آیت (92) کی تفسیر

﴿ وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا ۚ فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴾

کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں(1) مگر غلطی سے ہو جائے(2) (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے(3)۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں(4) اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی ﻻزمی ہے(5)۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا ﻻزم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)(6)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں(7)، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔

سورہ النساء کی آیت (93) کی تفسیر

﴿ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴾

اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے(1) ، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔(2)

سورہ النساء کی آیت (94) کی تفسیر

﴿ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا ضَرَبتُم فى سَبيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنوا وَلا تَقولوا لِمَن أَلقىٰ إِلَيكُمُ السَّلٰمَ لَستَ مُؤمِنًا تَبتَغونَ عَرَضَ الحَيوٰةِ الدُّنيا فَعِندَ اللَّهِ مَغانِمُ كَثيرَةٌ ۚ كَذٰلِكَ كُنتُم مِن قَبلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيكُم فَتَبَيَّنوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا ﴾

اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راه میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان واﻻ نہیں(1) ۔ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں(2)۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا لہٰذا تم ضرور تحقیق وتفتیش کر لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 77 آیات : 1 سے 6 صفحہ : 78 آیات : 7 سے 11 صفحہ : 79 آیات : 12 سے 14 صفحہ : 80 آیات : 15 سے 19 صفحہ : 81 آیات : 20 سے 23 صفحہ : 82 آیات : 24 سے 26 صفحہ : 83 آیات : 27 سے 33 صفحہ : 84 آیات : 34 سے 37 صفحہ : 85 آیات : 38 سے 44 صفحہ : 86 آیات : 45 سے 51 صفحہ : 87 آیات : 52 سے 59 صفحہ : 88 آیات : 60 سے 65 صفحہ : 89 آیات : 66 سے 74 صفحہ : 90 آیات : 75 سے 79 صفحہ : 91 آیات : 80 سے 86 صفحہ : 92 آیات : 87 سے 91 صفحہ : 93 آیات : 92 سے 94 صفحہ : 94 آیات : 95 سے 101 صفحہ : 95 آیات : 102 سے 105 صفحہ : 96 آیات : 106 سے 113 صفحہ : 97 آیات : 114 سے 121 صفحہ : 98 آیات : 122 سے 127 صفحہ : 99 آیات : 128 سے 134 صفحہ : 100 آیات : 135 سے 140 صفحہ : 101 آیات : 141 سے 147 صفحہ : 102 آیات : 148 سے 154 صفحہ : 103 آیات : 155 سے 162 صفحہ : 104 آیات : 163 سے 170 صفحہ : 105 آیات : 171 سے 175 صفحہ : 106 آیات : 176 سے 176