صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ النساء کی آیت (155) کی تفسیر
﴿ فَبِما نَقضِهِم ميثٰقَهُم وَكُفرِهِم بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَقَتلِهِمُ الأَنبِياءَ بِغَيرِ حَقٍّ وَقَولِهِم قُلوبُنا غُلفٌ ۚ بَل طَبَعَ اللَّهُ عَلَيها بِكُفرِهِم فَلا يُؤمِنونَ إِلّا قَليلًا ﴾
(یہ سزا تھی) بہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے(1) ، اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حاﻻنکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے، اس لئے یہ قدر قلیل ہی ایمان ﻻتے ہیں۔
سورہ النساء کی آیت (156) کی تفسیر
﴿ وَبِكُفرِهِم وَقَولِهِم عَلىٰ مَريَمَ بُهتٰنًا عَظيمًا ﴾
اور ان کے کفر کے باعث اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث۔(1)
سورہ النساء کی آیت (157) کی تفسیر
﴿ وَقَولِهِم إِنّا قَتَلنَا المَسيحَ عيسَى ابنَ مَريَمَ رَسولَ اللَّهِ وَما قَتَلوهُ وَما صَلَبوهُ وَلٰكِن شُبِّهَ لَهُم ۚ وَإِنَّ الَّذينَ اختَلَفوا فيهِ لَفى شَكٍّ مِنهُ ۚ ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ إِلَّا اتِّباعَ الظَّنِّ ۚ وَما قَتَلوهُ يَقينًا ﴾
اور یوں کہنے کے باعﺚ کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حاﻻنکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا(1) بلکہ ان کے لئے ان (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا(2)۔ یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے(3) اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا۔
سورہ النساء کی آیت (158) کی تفسیر
﴿ بَل رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا ﴾
بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا(1) اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں واﻻ ہے۔(2)
سورہ النساء کی آیت (159) کی تفسیر
﴿ وَإِن مِن أَهلِ الكِتٰبِ إِلّا لَيُؤمِنَنَّ بِهِ قَبلَ مَوتِهِ ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ يَكونُ عَلَيهِم شَهيدًا ﴾
اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ ﻻچکے(1) اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے۔(2)
سورہ النساء کی آیت (160) کی تفسیر
﴿ فَبِظُلمٍ مِنَ الَّذينَ هادوا حَرَّمنا عَلَيهِم طَيِّبٰتٍ أُحِلَّت لَهُم وَبِصَدِّهِم عَن سَبيلِ اللَّهِ كَثيرًا ﴾
جو نفیس چیزیں ان کے لئے حلال کی گئی تھیں وه ہم نے ان پر حرام کردیں ان کے ﻇلم کے باعﺚ اور اللہ تعالیٰ کی راه سے اکثر لوگوں کو روکنے کے باعث۔(1)
سورہ النساء کی آیت (161) کی تفسیر
﴿ وَأَخذِهِمُ الرِّبوٰا۟ وَقَد نُهوا عَنهُ وَأَكلِهِم أَموٰلَ النّاسِ بِالبٰطِلِ ۚ وَأَعتَدنا لِلكٰفِرينَ مِنهُم عَذابًا أَليمًا ﴾
اور سود جس سے منع کئے گئے تھے اسے لینے کے باعﺚ اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعﺚ اور ان میں جو کفار ہیں ہم نے ان کے لئے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
سورہ النساء کی آیت (162) کی تفسیر
﴿ لٰكِنِ الرّٰسِخونَ فِى العِلمِ مِنهُم وَالمُؤمِنونَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ ۚ وَالمُقيمينَ الصَّلوٰةَ ۚ وَالمُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَالمُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ أُولٰئِكَ سَنُؤتيهِم أَجرًا عَظيمًا ﴾
لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں(1) جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں(2) اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں(3) اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں(4) یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔