صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الانعام کی آیت (53) کی تفسیر
﴿ وَكَذٰلِكَ فَتَنّا بَعضَهُم بِبَعضٍ لِيَقولوا أَهٰؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيهِم مِن بَينِنا ۗ أَلَيسَ اللَّهُ بِأَعلَمَ بِالشّٰكِرينَ ﴾
اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں، کیا یہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے(1) ۔ کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو خوب جانتا ہے۔(2)
سورہ الانعام کی آیت (54) کی تفسیر
﴿ وَإِذا جاءَكَ الَّذينَ يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِنا فَقُل سَلٰمٌ عَلَيكُم ۖ كَتَبَ رَبُّكُم عَلىٰ نَفسِهِ الرَّحمَةَ ۖ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُم سوءًا بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ تابَ مِن بَعدِهِ وَأَصلَحَ فَأَنَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ ﴾
اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو (یوں) کہہ دیجیئے کہ تم پر سلامتی ہے(1) تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے(2) کہ جو شخص تم میں سے برا کام کر بیٹھے جہالت سے پھر وه اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح رکھے تو اللہ (کی یہ شان ہے کہ وه) بڑی مغفرت کرنے واﻻ ہے بڑی رحمت واﻻ ہے۔(3)
سورہ الانعام کی آیت (55) کی تفسیر
﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ وَلِتَستَبينَ سَبيلُ المُجرِمينَ ﴾
اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ﻇاہر ہوجائے۔
سورہ الانعام کی آیت (56) کی تفسیر
﴿ قُل إِنّى نُهيتُ أَن أَعبُدَ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ ۚ قُل لا أَتَّبِعُ أَهواءَكُم ۙ قَد ضَلَلتُ إِذًا وَما أَنا۠ مِنَ المُهتَدينَ ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی اتباع نہ کروں گا کیوں کہ اس حالت میں تو میں بے راه ہوجاؤں گا اور راه راست پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا۔
سورہ الانعام کی آیت (57) کی تفسیر
﴿ قُل إِنّى عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَكَذَّبتُم بِهِ ۚ ما عِندى ما تَستَعجِلونَ بِهِ ۚ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيرُ الفٰصِلينَ ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے(1) اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو، جس چیز کی تم جلدبازی کر رہے ہو وه میرے پاس نہیں۔ حکم کسی کا نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے(2) اللہ تعالیٰ واقعی بات کو بتلا دیتا ہے(3) اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے واﻻ وہی ہے۔
سورہ الانعام کی آیت (58) کی تفسیر
﴿ قُل لَو أَنَّ عِندى ما تَستَعجِلونَ بِهِ لَقُضِىَ الأَمرُ بَينى وَبَينَكُم ۗ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِالظّٰلِمينَ ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وه چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو تو میرا اور تمہارا باہمی قصہٴ فیصل(1) ہوچکا ہوتا اور ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
سورہ الانعام کی آیت (59) کی تفسیر
﴿ ۞ وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ ۚ وَيَعلَمُ ما فِى البَرِّ وَالبَحرِ ۚ وَما تَسقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلّا يَعلَمُها وَلا حَبَّةٍ فى ظُلُمٰتِ الأَرضِ وَلا رَطبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ ﴾
اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔