صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (144) از سورہ الانعام

آیات 125 سے 130 تک

138 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ الانعام کی آیت (125) کی تفسیر

﴿ فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهدِيَهُ يَشرَح صَدرَهُ لِلإِسلٰمِ ۖ وَمَن يُرِد أَن يُضِلَّهُ يَجعَل صَدرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّما يَصَّعَّدُ فِى السَّماءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجعَلُ اللَّهُ الرِّجسَ عَلَى الَّذينَ لا يُؤمِنونَ ﴾

سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشاده کر دیتا ہے اور جس کو بے راه رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہے(1) ، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ ﻻنے والوں پر ناپاکی مسلط کردیتا ہے۔(2)

سورہ الانعام کی آیت (126) کی تفسیر

﴿ وَهٰذا صِرٰطُ رَبِّكَ مُستَقيمًا ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَذَّكَّرونَ ﴾

اور یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا۔

سورہ الانعام کی آیت (127) کی تفسیر

﴿ ۞ لَهُم دارُ السَّلٰمِ عِندَ رَبِّهِم ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِما كانوا يَعمَلونَ ﴾

ان لوگوں کے واسطے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔(1)

سورہ الانعام کی آیت (128) کی تفسیر

﴿ وَيَومَ يَحشُرُهُم جَميعًا يٰمَعشَرَ الجِنِّ قَدِ استَكثَرتُم مِنَ الإِنسِ ۖ وَقالَ أَولِياؤُهُم مِنَ الإِنسِ رَبَّنَا استَمتَعَ بَعضُنا بِبَعضٍ وَبَلَغنا أَجَلَنَا الَّذى أَجَّلتَ لَنا ۚ قالَ النّارُ مَثوىٰكُم خٰلِدينَ فيها إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكيمٌ عَليمٌ ﴾

اور جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کرے گا، (کہے گا) اے جماعت جنات کی! تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لیے(1) جو انسان ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وه کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائده حاصل کیا تھا(2) اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تونے ہمارے لئے معین فرمائی(3)، اللہ فرمائے گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے، ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے(4)۔ بے شک آپ کا رب بڑی حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے۔

سورہ الانعام کی آیت (129) کی تفسیر

﴿ وَكَذٰلِكَ نُوَلّى بَعضَ الظّٰلِمينَ بَعضًا بِما كانوا يَكسِبونَ ﴾

اور اسی طرح ہم بعض کفار کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب۔(1)

سورہ الانعام کی آیت (130) کی تفسیر

﴿ يٰمَعشَرَ الجِنِّ وَالإِنسِ أَلَم يَأتِكُم رُسُلٌ مِنكُم يَقُصّونَ عَلَيكُم ءايٰتى وَيُنذِرونَكُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا ۚ قالوا شَهِدنا عَلىٰ أَنفُسِنا ۖ وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا وَشَهِدوا عَلىٰ أَنفُسِهِم أَنَّهُم كانوا كٰفِرينَ ﴾

اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے(1) ، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے۔(2)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 128 آیات : 1 سے 8 صفحہ : 129 آیات : 9 سے 18 صفحہ : 130 آیات : 19 سے 27 صفحہ : 131 آیات : 28 سے 35 صفحہ : 132 آیات : 36 سے 44 صفحہ : 133 آیات : 45 سے 52 صفحہ : 134 آیات : 53 سے 59 صفحہ : 135 آیات : 60 سے 68 صفحہ : 136 آیات : 69 سے 73 صفحہ : 137 آیات : 74 سے 81 صفحہ : 138 آیات : 82 سے 90 صفحہ : 139 آیات : 91 سے 94 صفحہ : 140 آیات : 95 سے 101 صفحہ : 141 آیات : 102 سے 110 صفحہ : 142 آیات : 111 سے 118 صفحہ : 143 آیات : 119 سے 124 صفحہ : 144 آیات : 125 سے 130 صفحہ : 145 آیات : 131 سے 137 صفحہ : 146 آیات : 138 سے 142 صفحہ : 147 آیات : 143 سے 146 صفحہ : 148 آیات : 147 سے 151 صفحہ : 149 آیات : 152 سے 157 صفحہ : 150 آیات : 158 سے 165