صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الانعام کی آیت (74) کی تفسیر
﴿ ۞ وَإِذ قالَ إِبرٰهيمُ لِأَبيهِ ءازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصنامًا ءالِهَةً ۖ إِنّى أَرىٰكَ وَقَومَكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ ﴾
اور وه وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر(1) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بےشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
سورہ الانعام کی آیت (75) کی تفسیر
﴿ وَكَذٰلِكَ نُرى إِبرٰهيمَ مَلَكوتَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلِيَكونَ مِنَ الموقِنينَ ﴾
اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔(1)
سورہ الانعام کی آیت (76) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا جَنَّ عَلَيهِ الَّيلُ رَءا كَوكَبًا ۖ قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لا أُحِبُّ الءافِلينَ ﴾
پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستاره دیکھا آپ نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وه غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔(1)
سورہ الانعام کی آیت (77) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا رَءَا القَمَرَ بازِغًا قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لَئِن لَم يَهدِنى رَبّى لَأَكونَنَّ مِنَ القَومِ الضّالّينَ ﴾
پھر جب چاند کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وه غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراه لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا۔
سورہ الانعام کی آیت (78) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا رَءَا الشَّمسَ بازِغَةً قالَ هٰذا رَبّى هٰذا أَكبَرُ ۖ فَلَمّا أَفَلَت قالَ يٰقَومِ إِنّى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ ﴾
پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ(1) یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وه بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔(2)
سورہ الانعام کی آیت (79) کی تفسیر
﴿ إِنّى وَجَّهتُ وَجهِىَ لِلَّذى فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ حَنيفًا ۖ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِكينَ ﴾
میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں(1) جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
سورہ الانعام کی آیت (80) کی تفسیر
﴿ وَحاجَّهُ قَومُهُ ۚ قالَ أَتُحٰجّونّى فِى اللَّهِ وَقَد هَدىٰنِ ۚ وَلا أَخافُ ما تُشرِكونَ بِهِ إِلّا أَن يَشاءَ رَبّى شَيـًٔا ۗ وَسِعَ رَبّى كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۗ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ ﴾
اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کیا(1) ، آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے حجت کرتے ہو حاﻻنکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتلا دیا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا تم پھر بھی خیال نہیں کرتے۔
سورہ الانعام کی آیت (81) کی تفسیر
﴿ وَكَيفَ أَخافُ ما أَشرَكتُم وَلا تَخافونَ أَنَّكُم أَشرَكتُم بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ عَلَيكُم سُلطٰنًا ۚ فَأَىُّ الفَريقَينِ أَحَقُّ بِالأَمنِ ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴾
اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حاﻻنکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیاده مستحق کون ہے(1) اگر تم خبر رکھتے ہو۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔