صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (157) از سورہ الاعراف

آیات 52 سے 57 تک

122 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ الاعراف کی آیت (52) کی تفسیر

﴿ وَلَقَد جِئنٰهُم بِكِتٰبٍ فَصَّلنٰهُ عَلىٰ عِلمٍ هُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ ﴾

اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچادی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کردیا ہے(1) ، وه ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان ﻻئے ہیں۔

سورہ الاعراف کی آیت (53) کی تفسیر

﴿ هَل يَنظُرونَ إِلّا تَأويلَهُ ۚ يَومَ يَأتى تَأويلُهُ يَقولُ الَّذينَ نَسوهُ مِن قَبلُ قَد جاءَت رُسُلُ رَبِّنا بِالحَقِّ فَهَل لَنا مِن شُفَعاءَ فَيَشفَعوا لَنا أَو نُرَدُّ فَنَعمَلَ غَيرَ الَّذى كُنّا نَعمَلُ ۚ قَد خَسِروا أَنفُسَهُم وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ ﴾

ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے(1) ، جس روز اس کا اخیر نتیجہ پیش آئے گا اور اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں ﻻئے تھے، سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وه ہماری سفارش کردے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے، جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو خساره میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگئیں۔(2)

سورہ الاعراف کی آیت (54) کی تفسیر

﴿ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ يَطلُبُهُ حَثيثًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ وَالنُّجومَ مُسَخَّرٰتٍ بِأَمرِهِ ۗ أَلا لَهُ الخَلقُ وَالأَمرُ ۗ تَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ ﴾

بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے(1) ، پھر عرش پر قائم ہوا(2)۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے(3) اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔

سورہ الاعراف کی آیت (55) کی تفسیر

﴿ ادعوا رَبَّكُم تَضَرُّعًا وَخُفيَةً ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ ﴾

تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔

سورہ الاعراف کی آیت (56) کی تفسیر

﴿ وَلا تُفسِدوا فِى الأَرضِ بَعدَ إِصلٰحِها وَادعوهُ خَوفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحمَتَ اللَّهِ قَريبٌ مِنَ المُحسِنينَ ﴾

اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔(1)

سورہ الاعراف کی آیت (57) کی تفسیر

﴿ وَهُوَ الَّذى يُرسِلُ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا أَقَلَّت سَحابًا ثِقالًا سُقنٰهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنزَلنا بِهِ الماءَ فَأَخرَجنا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۚ كَذٰلِكَ نُخرِجُ المَوتىٰ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ ﴾

اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں(1) ، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں(2)، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں(3)۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو۔(4)

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 151 آیات : 1 سے 11 صفحہ : 152 آیات : 12 سے 22 صفحہ : 153 آیات : 23 سے 30 صفحہ : 154 آیات : 31 سے 37 صفحہ : 155 آیات : 38 سے 43 صفحہ : 156 آیات : 44 سے 51 صفحہ : 157 آیات : 52 سے 57 صفحہ : 158 آیات : 58 سے 67 صفحہ : 159 آیات : 68 سے 73 صفحہ : 160 آیات : 74 سے 81 صفحہ : 161 آیات : 82 سے 87 صفحہ : 162 آیات : 88 سے 95 صفحہ : 163 آیات : 96 سے 104 صفحہ : 164 آیات : 105 سے 120 صفحہ : 165 آیات : 121 سے 130 صفحہ : 166 آیات : 131 سے 137 صفحہ : 167 آیات : 138 سے 143 صفحہ : 168 آیات : 144 سے 149 صفحہ : 169 آیات : 150 سے 155 صفحہ : 170 آیات : 156 سے 159 صفحہ : 171 آیات : 160 سے 163 صفحہ : 172 آیات : 164 سے 170 صفحہ : 173 آیات : 171 سے 178 صفحہ : 174 آیات : 179 سے 187 صفحہ : 175 آیات : 188 سے 195 صفحہ : 176 آیات : 196 سے 206