صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (96) کی تفسیر
﴿ وَلَو أَنَّ أَهلَ القُرىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَكٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ وَلٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ ﴾
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔
سورہ الاعراف کی آیت (97) کی تفسیر
﴿ أَفَأَمِنَ أَهلُ القُرىٰ أَن يَأتِيَهُم بَأسُنا بَيٰتًا وَهُم نائِمونَ ﴾
کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وه سوتے ہوں۔
سورہ الاعراف کی آیت (98) کی تفسیر
﴿ أَوَأَمِنَ أَهلُ القُرىٰ أَن يَأتِيَهُم بَأسُنا ضُحًى وَهُم يَلعَبونَ ﴾
اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وه اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔
سورہ الاعراف کی آیت (99) کی تفسیر
﴿ أَفَأَمِنوا مَكرَ اللَّهِ ۚ فَلا يَأمَنُ مَكرَ اللَّهِ إِلَّا القَومُ الخٰسِرونَ ﴾
کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (100) کی تفسیر
﴿ أَوَلَم يَهدِ لِلَّذينَ يَرِثونَ الأَرضَ مِن بَعدِ أَهلِها أَن لَو نَشاءُ أَصَبنٰهُم بِذُنوبِهِم ۚ وَنَطبَعُ عَلىٰ قُلوبِهِم فَهُم لا يَسمَعونَ ﴾
اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (101) کی تفسیر
﴿ تِلكَ القُرىٰ نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنبائِها ۚ وَلَقَد جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَما كانوا لِيُؤمِنوا بِما كَذَّبوا مِن قَبلُ ۚ كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِ الكٰفِرينَ ﴾
ان بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے(1) ، پھر جس چیز کو انہوں نے ابتدا میں جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے(2)، اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (102) کی تفسیر
﴿ وَما وَجَدنا لِأَكثَرِهِم مِن عَهدٍ ۖ وَإِن وَجَدنا أَكثَرَهُم لَفٰسِقينَ ﴾
اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا(1) اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا۔
سورہ الاعراف کی آیت (103) کی تفسیر
﴿ ثُمَّ بَعَثنا مِن بَعدِهِم موسىٰ بِـٔايٰتِنا إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَظَلَموا بِها ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُفسِدينَ ﴾
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دﻻئل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا(1) ، مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا۔ سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟(2)
سورہ الاعراف کی آیت (104) کی تفسیر
﴿ وَقالَ موسىٰ يٰفِرعَونُ إِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ ﴾
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں۔
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔