صفحہ کے لیے تفسیر پڑھیں اور ساتھ ساتھ سنیں (168) از سورہ الاعراف

آیات 144 سے 149 تک

98 مشاہدات

صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔

سورہ الاعراف کی آیت (144) کی تفسیر

﴿ قالَ يٰموسىٰ إِنِّى اصطَفَيتُكَ عَلَى النّاسِ بِرِسٰلٰتى وَبِكَلٰمى فَخُذ ما ءاتَيتُكَ وَكُن مِنَ الشّٰكِرينَ ﴾

ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو۔(1)

سورہ الاعراف کی آیت (145) کی تفسیر

﴿ وَكَتَبنا لَهُ فِى الأَلواحِ مِن كُلِّ شَيءٍ مَوعِظَةً وَتَفصيلًا لِكُلِّ شَيءٍ فَخُذها بِقُوَّةٍ وَأمُر قَومَكَ يَأخُذوا بِأَحسَنِها ۚ سَأُو۟ريكُم دارَ الفٰسِقينَ ﴾

اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دی(1) ، تم ان کو پوری طاقت سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں(2)، اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بے حکموں کا مقام دکھلاتا ہوں۔(3)

سورہ الاعراف کی آیت (146) کی تفسیر

﴿ سَأَصرِفُ عَن ءايٰتِىَ الَّذينَ يَتَكَبَّرونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَإِن يَرَوا كُلَّ ءايَةٍ لا يُؤمِنوا بِها وَإِن يَرَوا سَبيلَ الرُّشدِ لا يَتَّخِذوهُ سَبيلًا وَإِن يَرَوا سَبيلَ الغَىِّ يَتَّخِذوهُ سَبيلًا ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا عَنها غٰفِلينَ ﴾

میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وه ان پر ایمان نہ ﻻئیں،(1) اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں(2)۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔(3)

سورہ الاعراف کی آیت (147) کی تفسیر

﴿ وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَلِقاءِ الءاخِرَةِ حَبِطَت أَعمٰلُهُم ۚ هَل يُجزَونَ إِلّا ما كانوا يَعمَلونَ ﴾

اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے۔ ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے۔(1)

سورہ الاعراف کی آیت (148) کی تفسیر

﴿ وَاتَّخَذَ قَومُ موسىٰ مِن بَعدِهِ مِن حُلِيِّهِم عِجلًا جَسَدًا لَهُ خُوارٌ ۚ أَلَم يَرَوا أَنَّهُ لا يُكَلِّمُهُم وَلا يَهديهِم سَبيلًا ۘ اتَّخَذوهُ وَكانوا ظٰلِمينَ ﴾

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وه ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راه بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا۔(1)

سورہ الاعراف کی آیت (149) کی تفسیر

﴿ وَلَمّا سُقِطَ فى أَيديهِم وَرَأَوا أَنَّهُم قَد ضَلّوا قالوا لَئِن لَم يَرحَمنا رَبُّنا وَيَغفِر لَنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ ﴾

اور جب نادم ہوئے(1) اور معلوم ہوا کہ واقعی وه لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناه معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
صفحہ : 151 آیات : 1 سے 11 صفحہ : 152 آیات : 12 سے 22 صفحہ : 153 آیات : 23 سے 30 صفحہ : 154 آیات : 31 سے 37 صفحہ : 155 آیات : 38 سے 43 صفحہ : 156 آیات : 44 سے 51 صفحہ : 157 آیات : 52 سے 57 صفحہ : 158 آیات : 58 سے 67 صفحہ : 159 آیات : 68 سے 73 صفحہ : 160 آیات : 74 سے 81 صفحہ : 161 آیات : 82 سے 87 صفحہ : 162 آیات : 88 سے 95 صفحہ : 163 آیات : 96 سے 104 صفحہ : 164 آیات : 105 سے 120 صفحہ : 165 آیات : 121 سے 130 صفحہ : 166 آیات : 131 سے 137 صفحہ : 167 آیات : 138 سے 143 صفحہ : 168 آیات : 144 سے 149 صفحہ : 169 آیات : 150 سے 155 صفحہ : 170 آیات : 156 سے 159 صفحہ : 171 آیات : 160 سے 163 صفحہ : 172 آیات : 164 سے 170 صفحہ : 173 آیات : 171 سے 178 صفحہ : 174 آیات : 179 سے 187 صفحہ : 175 آیات : 188 سے 195 صفحہ : 176 آیات : 196 سے 206