صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (138) کی تفسیر
﴿ وَجٰوَزنا بِبَنى إِسرٰءيلَ البَحرَ فَأَتَوا عَلىٰ قَومٍ يَعكُفونَ عَلىٰ أَصنامٍ لَهُم ۚ قالوا يٰموسَى اجعَل لَنا إِلٰهًا كَما لَهُم ءالِهَةٌ ۚ قالَ إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلونَ ﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (139) کی تفسیر
﴿ إِنَّ هٰؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُم فيهِ وَبٰطِلٌ ما كانوا يَعمَلونَ ﴾
یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباه کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (140) کی تفسیر
﴿ قالَ أَغَيرَ اللَّهِ أَبغيكُم إِلٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُم عَلَى العٰلَمينَ ﴾
فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حاﻻنکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (141) کی تفسیر
﴿ وَإِذ أَنجَينٰكُم مِن ءالِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ ۖ يُقَتِّلونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفى ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ ﴾
اور وه وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زنده چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (142) کی تفسیر
﴿ ۞ وَوٰعَدنا موسىٰ ثَلٰثينَ لَيلَةً وَأَتمَمنٰها بِعَشرٍ فَتَمَّ ميقٰتُ رَبِّهِ أَربَعينَ لَيلَةً ۚ وَقالَ موسىٰ لِأَخيهِ هٰرونَ اخلُفنى فى قَومى وَأَصلِح وَلا تَتَّبِع سَبيلَ المُفسِدينَ ﴾
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعده کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا(1) ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔(2)
سورہ الاعراف کی آیت (143) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا جاءَ موسىٰ لِميقٰتِنا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قالَ رَبِّ أَرِنى أَنظُر إِلَيكَ ۚ قالَ لَن تَرىٰنى وَلٰكِنِ انظُر إِلَى الجَبَلِ فَإِنِ استَقَرَّ مَكانَهُ فَسَوفَ تَرىٰنى ۚ فَلَمّا تَجَلّىٰ رَبُّهُ لِلجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمّا أَفاقَ قالَ سُبحٰنَكَ تُبتُ إِلَيكَ وَأَنا۠ أَوَّلُ المُؤمِنينَ ﴾
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے(1) لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وه اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے(2)۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بےشک آپ کی ذات منزه ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان ﻻنے واﻻ ہوں۔(3)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔