صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الاعراف کی آیت (131) کی تفسیر
﴿ فَإِذا جاءَتهُمُ الحَسَنَةُ قالوا لَنا هٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ يَطَّيَّروا بِموسىٰ وَمَن مَعَهُ ۗ أَلا إِنَّما طٰئِرُهُم عِندَ اللَّهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ ﴾
سو جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے(1) ۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے(2)، لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
سورہ الاعراف کی آیت (132) کی تفسیر
﴿ وَقالوا مَهما تَأتِنا بِهِ مِن ءايَةٍ لِتَسحَرَنا بِها فَما نَحنُ لَكَ بِمُؤمِنينَ ﴾
اور یوں کہتے کیسی ہی بات ہمارے سامنے لاؤ کہ ان کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی ہم تمہاری بات ہر گز نہ مانیں گے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (133) کی تفسیر
﴿ فَأَرسَلنا عَلَيهِمُ الطّوفانَ وَالجَرادَ وَالقُمَّلَ وَالضَّفادِعَ وَالدَّمَ ءايٰتٍ مُفَصَّلٰتٍ فَاستَكبَروا وَكانوا قَومًا مُجرِمينَ ﴾
پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون، کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے(1) ۔ سو وه تکبر کرتے رہے اور وه لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ۔
سورہ الاعراف کی آیت (134) کی تفسیر
﴿ وَلَمّا وَقَعَ عَلَيهِمُ الرِّجزُ قالوا يٰموسَى ادعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفتَ عَنَّا الرِّجزَ لَنُؤمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرسِلَنَّ مَعَكَ بَنى إِسرٰءيلَ ﴾
اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراه کر دیں گے۔
سورہ الاعراف کی آیت (135) کی تفسیر
﴿ فَلَمّا كَشَفنا عَنهُمُ الرِّجزَ إِلىٰ أَجَلٍ هُم بٰلِغوهُ إِذا هُم يَنكُثونَ ﴾
پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وه فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (136) کی تفسیر
﴿ فَانتَقَمنا مِنهُم فَأَغرَقنٰهُم فِى اليَمِّ بِأَنَّهُم كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا عَنها غٰفِلينَ ﴾
پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے۔(1)
سورہ الاعراف کی آیت (137) کی تفسیر
﴿ وَأَورَثنَا القَومَ الَّذينَ كانوا يُستَضعَفونَ مَشٰرِقَ الأَرضِ وَمَغٰرِبَهَا الَّتى بٰرَكنا فيها ۖ وَتَمَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ الحُسنىٰ عَلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ بِما صَبَروا ۖ وَدَمَّرنا ما كانَ يَصنَعُ فِرعَونُ وَقَومُهُ وَما كانوا يَعرِشونَ ﴾
اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے(1) ۔ اس سرزمین کے پورب پچھم کا مالک بنا دیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے(2) اور آپ کے رب کا نیک وعده، بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا(3) اور ہم نے فرعون کے اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وه اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے، سب کو درہم برہم کر دیا۔(4)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔