صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الانبیاء کی آیت (36) کی تفسیر
﴿ وَإِذا رَءاكَ الَّذينَ كَفَروا إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهٰذَا الَّذى يَذكُرُ ءالِهَتَكُم وَهُم بِذِكرِ الرَّحمٰنِ هُم كٰفِرونَ ﴾
یہ منکرین تجھے جب بھی دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق ہی اڑاتے ہیں کہ کیا یہی وه ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتا ہے، اور وه خود ہی رحمٰن کی یاد کے بالکل ہی منکر ہیں.(1)
سورہ الانبیاء کی آیت (37) کی تفسیر
﴿ خُلِقَ الإِنسٰنُ مِن عَجَلٍ ۚ سَأُو۟ريكُم ءايٰتى فَلا تَستَعجِلونِ ﴾
انسان جلد باز مخلوق ہے۔ میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی ابھی دکھاؤں گا تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو.(1)
سورہ الانبیاء کی آیت (38) کی تفسیر
﴿ وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ ﴾
کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو بتا دو کہ یہ وعده کب ہے.
سورہ الانبیاء کی آیت (39) کی تفسیر
﴿ لَو يَعلَمُ الَّذينَ كَفَروا حينَ لا يَكُفّونَ عَن وُجوهِهِمُ النّارَ وَلا عَن ظُهورِهِم وَلا هُم يُنصَرونَ ﴾
کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی.(1)
سورہ الانبیاء کی آیت (40) کی تفسیر
﴿ بَل تَأتيهِم بَغتَةً فَتَبهَتُهُم فَلا يَستَطيعونَ رَدَّها وَلا هُم يُنظَرونَ ﴾
(ہاں ہاں!) وعدے کی گھڑی ان کے پاس اچانک آجائے گی اور انہیں ہکا بکا کر دے گی(1) ، پھر نہ تو یہ لوگ اسے ٹال سکیں گے اور نہ ذرا سی بھی مہلت دیئے(2) جائیں گے.
سورہ الانبیاء کی آیت (41) کی تفسیر
﴿ وَلَقَدِ استُهزِئَ بِرُسُلٍ مِن قَبلِكَ فَحاقَ بِالَّذينَ سَخِروا مِنهُم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ ﴾
اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وه ہنسی اڑاتے تھے.(1)
سورہ الانبیاء کی آیت (42) کی تفسیر
﴿ قُل مَن يَكلَؤُكُم بِالَّيلِ وَالنَّهارِ مِنَ الرَّحمٰنِ ۗ بَل هُم عَن ذِكرِ رَبِّهِم مُعرِضونَ ﴾
ان سے پوچھئے کہ رحمٰن سے، دن اور رات تمہاری حفاﻇت کون کر سکتا ہے(1) ؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے پھرے ہوئے ہیں.
سورہ الانبیاء کی آیت (43) کی تفسیر
﴿ أَم لَهُم ءالِهَةٌ تَمنَعُهُم مِن دونِنا ۚ لا يَستَطيعونَ نَصرَ أَنفُسِهِم وَلا هُم مِنّا يُصحَبونَ ﴾
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے.(1)
سورہ الانبیاء کی آیت (44) کی تفسیر
﴿ بَل مَتَّعنا هٰؤُلاءِ وَءاباءَهُم حَتّىٰ طالَ عَلَيهِمُ العُمُرُ ۗ أَفَلا يَرَونَ أَنّا نَأتِى الأَرضَ نَنقُصُها مِن أَطرافِها ۚ أَفَهُمُ الغٰلِبونَ ﴾
بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سروسامان دیے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی۔ کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اب کیا وہی غالب ہیں؟(1)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔