صوتی تفسیر مختصر تفسیر پر مبنی ہے۔
سورہ الانبیاء کی آیت (82) کی تفسیر
﴿ وَمِنَ الشَّيٰطينِ مَن يَغوصونَ لَهُ وَيَعمَلونَ عَمَلًا دونَ ذٰلِكَ ۖ وَكُنّا لَهُم حٰفِظينَ ﴾
اسی طرح سے بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے تابع کیے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے(1) ، ان کے نگہبان ہم ہی تھے.(2)
سورہ الانبیاء کی آیت (83) کی تفسیر
﴿ ۞ وَأَيّوبَ إِذ نادىٰ رَبَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ ﴾
ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے.
سورہ الانبیاء کی آیت (84) کی تفسیر
﴿ فَاستَجَبنا لَهُ فَكَشَفنا ما بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَءاتَينٰهُ أَهلَهُ وَمِثلَهُم مَعَهُم رَحمَةً مِن عِندِنا وَذِكرىٰ لِلعٰبِدينَ ﴾
تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی خاص مہربانی سے(1) تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو.
سورہ الانبیاء کی آیت (85) کی تفسیر
﴿ وَإِسمٰعيلَ وَإِدريسَ وَذَا الكِفلِ ۖ كُلٌّ مِنَ الصّٰبِرينَ ﴾
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل(1) ، (علیہم السلام) یہ سب صابر لوگ تھے.
سورہ الانبیاء کی آیت (86) کی تفسیر
﴿ وَأَدخَلنٰهُم فى رَحمَتِنا ۖ إِنَّهُم مِنَ الصّٰلِحينَ ﴾
ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا۔ یہ سب لوگ نیک تھے.
سورہ الانبیاء کی آیت (87) کی تفسیر
﴿ وَذَا النّونِ إِذ ذَهَبَ مُغٰضِبًا فَظَنَّ أَن لَن نَقدِرَ عَلَيهِ فَنادىٰ فِى الظُّلُمٰتِ أَن لا إِلٰهَ إِلّا أَنتَ سُبحٰنَكَ إِنّى كُنتُ مِنَ الظّٰلِمينَ ﴾
مچھلی والے(1) (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں(2) کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا.
سورہ الانبیاء کی آیت (88) کی تفسیر
﴿ فَاستَجَبنا لَهُ وَنَجَّينٰهُ مِنَ الغَمِّ ۚ وَكَذٰلِكَ نُۨجِى المُؤمِنينَ ﴾
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں.(1)
سورہ الانبیاء کی آیت (89) کی تفسیر
﴿ وَزَكَرِيّا إِذ نادىٰ رَبَّهُ رَبِّ لا تَذَرنى فَردًا وَأَنتَ خَيرُ الوٰرِثينَ ﴾
اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے.
سورہ الانبیاء کی آیت (90) کی تفسیر
﴿ فَاستَجَبنا لَهُ وَوَهَبنا لَهُ يَحيىٰ وَأَصلَحنا لَهُ زَوجَهُ ۚ إِنَّهُم كانوا يُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَيَدعونَنا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكانوا لَنا خٰشِعينَ ﴾
ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما کر اسے یحيٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا(1) اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا(2)۔ یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے.(3)
اس کے علاوہ، آپ اس صفحہ کے ہر لفظ کی تلاوت الگ الگ سن سکتے ہیں۔